10 دسمبر 2019 - 19:50
پتھروں کے انتفاضہ کی سالگرہ کے موقع پر حماس کی جانب سے مسلحانہ مزاحمت و استقامت کے مفروضے پر زور

حماس نے ایک بار پھر صہیونی حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو سدھارنے کی بات اقوام کی خواہشوں سے متناقض ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

ترجمہ خیبر تحقیقاتی ٹیم

فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی[۱] کی رپورٹ کے مطابق ، فلسطین کا سب سے پہلا انتفاضہ[۲]  ، پتھر  کے انتفاضہ کے طور پر مشہور ہے جسکا آغاز ۸ سمبر ۱۹۸۷ء کو ہوتا ہے اور یہ انتفاضہ  ۱۹۹۳ ء  اسلو معاہدے[۳]  پر دستخط ہونے تک جاری رہتا ہے ۔

اس انتفاضے کو ’’انتفاضہ سنگ‘‘ یا پتھروں کا انتفاضہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں  نے اس میں صہیونی رجیم سے مقابلہ کے لئے پتھروں سے استفادہ کیا اور ایک تخمینہ کے مطابق ۱۳۰۰ /فلسطینی اس انتفاضہ میں شہید ہوئے جبکہ صہیونی ہلاک شدگان کی تعداد ۱۶۰ بیان کی گئی ۔صفا نیوز ایجنسی[۴] کی رپورٹ کے مطابق  یکشنبہ کے دن اس انتفاضہ کی سالگرہ کے موقع پر حماس نے اس بات کا اعلان کیا کہ وہ دلائل جو پتھروں کے انتفاضہ کے شروع ہونے کا سبب بنے ابھی بھی باقی ہیں، فلسطینی قوم دسیوں سال سے ظلم کے خلاف نبرد آزما ہے اور صہیونی غاصب حکومت ایک لحظہ کے لئے بھی فلسطینی سر زمین پر چین و سکون نہیں پا سکے گی ۔

بقیہ یہاں پر