اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سنیچر کو ہندوستانی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان چاروں ملزموں پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے معاملے سے شکوک و شبہات کو دور کرے۔
ہندوستانی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جنسی جارحیت کے چار ملزمین کو جو ایک ہفتے سے جیل میں تھے، پولیس کرائم سین پر لے گئی تھی جہاں انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی جس کی بنا پر پولیس کو ان کا انکاؤنٹر کرنا پڑا۔
ان افراد پرایک خاتون ڈاکٹرکو آبرو ریزی کے بعد زندہ جلا دینے کا الزام تھا۔
سوشل میڈیا پر بعض سیاسی و ثقافتی شخصیتوں نے پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے تاہم ہندوستانی سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے پولیس کے اس اقدام کو لاپرواہی کے ساتھ قتل قرار دیا ہے۔
ہندوستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ زیرحراست افراد کے قتل سے سماج میں برا پیغام پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان افراد کو قانون کے مطابق عدالت سے سزا ملنا چاہئے تھی۔
ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس واقعے کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔
/129
9 دسمبر 2019 - 04:53
News ID: 992360
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حیدرآباد پولیس کے ہاتھوں آبرو ریزی اور جنسی جارحیت کے چار ملزموں کے قتل کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔