11 اگست 2019 - 05:25
آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانے کے سربراہ کی پاکستانی پریس اور ثقافتی قونصلر سے ملاقات

آستان قدس رضوی کے کتابخانے، میوزیم اور دستاویزاتی سینٹر کے سربراہ نے پاکستانی سفارتخانے کے پریس اور کلچرل قونصلر ملاقات کی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آستان قدس رضوی کی مرکزی   لائبریری  کے سربراہ   حجت الاسلام والمسلمین سید جلال حسینی نے اس ملاقات کے دوران کتاب اور کتب خانوں کو معاشرے کی   ترقی وپیشرفت   کے لئے  اہم موضوع اور اسٹریٹیجی قراردیا اور  کہا کہ  مشہد مقدس اور ملکی سطح پرآستان قدس رضوی کے کتب خانہ اور میوزیموں  کی تعداد پچاس سے زائد ہے جس کی وجہ سے یہ ایک اہم علمی و تحقیقاتی مرکز کہلا تا ہے  اس کے علاوہ اس مرکز کا عالم آل محمد(ص) حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے منسوب ہونے کا تقاضا یہ ہے  کہ اس مرکز کے تمام کتب خانے  پوری دنیا میں معتبرترین کتب خانے شمار ہوں  

انہوں نے   کہا کہ آج کے دور میں بھی سب سے  پرانی اور مؤثر ترین سفارتکاری  کتاب  و علم  کی  مرکزیت میں عقل و خرد کو جانا جاتا ہے  اور خاص طور پر  ایران و پاکستان جیسے ممالک کے لئے جو کہ قدیم    تاریخ و ثقافت کے لحاظ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں یہ سفارتکاری اور زیادہ اہم ہوجاتی ہے ۔

حجت الاسلام حسینی کا کہنا تھا کہ آج ہمارے پاس گرانقدر میراث ہے اور ہمیں چاہئے کہ اس اسلامی و انسانی ثقافتی میراث کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسے زندہ رکھنے کی بھی کوشش کریں۔  انہوں نے کہا ہم دنیا میں کتاب کے ذریعہ ڈپلومیسی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور اسی لئے ہماری کوشش یہ ہے کہ دنیا کے تمام ثقافتی، علمی ، تحقیقاتی اور یونیورسٹی سطح کے علمی  مراکز سے رابطہ میں رہیں۔

انہوں نے  کہا کہ  ہماری ذمہ داری فقط خطی نسخوں کی حفاظت نہیں ہے بلکہ ہم  ان نسخوں اور کتابوں تک محققین اور دانشوروں  کی رسائی کو بھی ممکن بنانا چاہتے ہیں تاکہ محققین اپنی تحقیقات سے انسانیت کی ترقی و کما ل کا راستہ ہموار کریں   ۔

آستان قدس رضوی    کے کتب خانوں میوزیموں  اور دستاویزاتی مرکز کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد سابقہ تحقیقات ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ دستاویزات،پریس،خطی اور ڈیجیٹل نسخوں میں پاکستانی مراکز کے ساتھ رابطہ میں رہیں اور اس کام کے لئے حتی ہم آستان قدس رضوی کا ایک شعبہ پاکستان میں بھی کھولنا چاہتے ہيں

ہمیں آستان قدس رضوی کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے اس ملاقات میں    پاکستانی سفارتخانے  کے پریس قونصلر  برج لال دوسانی  نے آستان قدس رضوی کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران آپس میں دوست اوربرادار ملک  ہیں جن میں تاریخی، ثقافتی اور لسانی  اعتبار سے بے شمار  مشترکات پائے جاتے ہیں اور اس طرح کی ملاقاتوں   اور میٹنگوں  سے دونوں ممالک کے روابط مزید بہتر ہوں گے۔

پاکستان پریس اور کلچر ل قونصلر  برج لال دوسانی کا کہنا تھا کہ آستان قدس رضوی کے میوزیموں  ، کتب خانوں اور دستاویزاتی مرکز کا مجموعہ بہت عظیم  اور ہرلحاظ سے مالا مال ہے جس میں دستاویزات کی آرکائیو  اور خطی نسخوں کی حفاظت کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیاء پر برطانوی یلغار کی وجہ سے اس حصے میں  بسنے والوں کی اصلی زبان انگریزی میں تبدیل ہو گئی حالانکہ اس سے پہلے تمام مؤلفین، مصنفین اور شاعروں کی زبان فارسی تھی اور انہوں نے بہت سارا فارسی ادب سرزمین پاکستان کے لئے چھوڑا جن کی حفاظت اور ان دستاویزات کے صحیح و دقیق ترجمہ کے لئے آستان قدس رضوی کے تعاون کی ضرورت ہے ۔

 پاکستانی پریس قونصلر دوسانی نے مزید   کہا کہ پاکستان میں پائے جانے والے آثار کی حفاظت کرنے والی تنظیم نے ان دستاویزات اور آثار کی حفاظت کے لئے بہت سارے یورپی  ممالک کے ساتھ رابطہ رکھا  ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ایرانی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے اورہم  اس سلسلے میں آستان قدس رضوی کے تعاون اور مدد سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں۔

گفتگو کے اختتام پر پاکستانی وفد نے آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز،کتب خانوں کے خطی نسخوں اور میوزیم کا بھی دورہ کیا۔



/129