اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ارنا نمائندے کیساتھ خصوص انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کشیدکی کے دوران سفارتی چینلز کھلے ہونا، انتہائی اہم ہے۔
قبل ازاین یورپی یونین نے بھی ایک بیان میں محمد جواد ظریف کیساتھ باہمی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ جو ایرانی قوم کے خلاف معاشی جنگ مسلط کرنے کے مرکز کے طور پر مشہور ہے، نے محمد جواد ظریف کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے.
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے کہا کہ جواد ظریف کیخلاف پابندیاں لگانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
ان پابندیوں کے مطابق محمد جواد ظریف کے امریکا اور امریکی حکومت کے زیر انتظام ممالک میں تمام اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور اس سے ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے حالیہ اقدام کے رد عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مجھ پر عائد پابندیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں دنیا میں ایران کا مرکزی ترجمان ہوں، یہ حقیقت کیا اتنی تکلیف دہ ہے؟
ظریف نے خود پر لگی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا ایران سے باہر کوئی اثاثہ یا مفاد نہیں، اس سے مجھ پر یا میرے اہلخانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، مجھے اپنے ایجنڈا کے لیے اتنا بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے آپ کا شکریہ۔
/129
3 اگست 2019 - 04:17
News ID: 966422
برطانوی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی حالیہ پابندیوں کی پیروی نہیں کر ے گا۔