اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آستان قدس رضوی کے نائب سربراہ نیز اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے ایکزیکیوٹیو ڈائکٹر نے آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی سے ملاقات و گفتگو کی ۔ اس موقعہ پر آیت اللہ مدرسی نے آستان قدس رضوی کے اسلامی علوم کی نشر و اشاعت کے شعبے کی کاوشوں اور سرگرمیوں کی تعریف اور قدر دانی کرتے ہوئے ان منشوروں کی کیفیت اور حجم دونوں کی افزایش پر تاکید کی
آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے کہا کہ یوں تو کسی جنگ یا فوجی حملے کا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے لیکن دشمن کی جانب سے ثقافتی جنگ اور ثقافتی حملے کا خطرہ ہمیشہ لگا رہتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمام دوسرے ممالک میں بچپن سے ہی تہذیب و ثقافت پر توجہ دی جاتی ہے ، ہمیں بھی اس اہم موضوع پر زیادہ توجہ دینی چاہیۓ کیونکہ ذہنی رجحان اسی دور میں تشکیل پاتے ہیں ۔
ان مرجع عالیقدر نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے کے مسائل کو حل کرنے کے لیۓ کسی منصوبہ بندی پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ جبکہ مشکلات و مسائل سے ہمیں بے اعتنا نہیں رہنا چاہیۓ اور دشمن کے ثقافتی حملے کی طرف سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلامی اور شیعی ثقافت کو نئی زندگی دی جاسکتی ہے اور اس کام کے لیۓ ضروری ہے کہ ثقافت میں نئے موضوعات اور جدید تحقیقات کو شامل کیا جائے ۔ آج کے دور میں ہم چاہیں یا نہ چاہیں شیعیان عالم اپنے مسائل ہمارے ہی پاس لے آتے ہیں۔
اس ملاقات میں آستان قدس رضوی کے ایکزیکیوٹیو ڈائرکٹر جناب حجت الاسلام سید محمود مرویان حسینی نے اس مرکز کے اس اہم فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے جس کے تحت سید مرتضی علم الہدی (رہ) کے ادبی نمونوں کی دارالحدیث کے تعاون سے 60 جلدوں میں اشاعت کی جائیگی ، حضرت آیت اللہ مدرسی سے درخواست کی کہ وہ عراق کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں تعاون اور مشارکت پر آمادہ کریں ۔
قابل ذکر ہے کہ اس نشست کے اختتام پر جناب حسینی کی تجویز پر طے پایا کہ وہ امام رضا علیہ السلام کے زائرین کے بار بار پوچھے جانے والے ان سوالوں کا مکمل وضاحت کے ساتھ جواب دیں جو لوگوں کے درمیان جاکر پوچھے اور جمع کیۓ گئے ہیں تاکہ ان کو ایک کتاب کی شکل میں شایع کیا جاسکے ۔
/129
27 جولائی 2019 - 05:11
News ID: 964634
آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے آستان قدس رضوی اوراسلامی تحقیقاتی فاؤںڈیشن کی قابل فخر و مباحات اسلامی و دینی لٹریچر پر تحقیقات اور اس کی نشر واشاعت کے اقدام کی قدردانی کی۔