29 جون 2019 - 14:08
سینچری ڈیل، فلسطین کیلئے اتحاد کا سنہری موقع

سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس ایسے ایشوز ہیں جن کی مخالفت حماس اور اسلامک جہاد جیسے اسلامی مزاحمتی گروہ بھی کر رہے ہیں اور فلسطین اتھارٹی، فتح اور پی ایل او جیسی اسرائیل سے مذاکرات کی حامی جماعتیں بھی کر رہی ہیں۔ اس بات کا قومی امکان بھی موجود ہے کہ یہ سنہری موقع میسر آنے اور عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز کے نتیجے میں ایک نیا انتفاضہ معرض وجود میں آ جائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سینچری ڈیل منصوبہ پیش کیا ہے جس میں ۵۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں بعض ایسی شقیں شامل ہیں جن کے باعث فلسطینی گروہوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ اسی مخالفت کو کم کرنے کیلئے اس منصوبے میں وسیع پیمانے پر اقتصادی پیکجز شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں ۱۷۹ تجارتی پراجیکٹس بھی شامل ہیں جن کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ۲۸ ارب ڈالر جبکہ مصر، اردن اور لبنان میں مقیم فلسطینیوں کیلئے بھی کئی ارب ڈالر کے پیکجز شامل ہیں۔ ان بھاری بھرکم اخراجات میں امریکہ کا حصہ بہت کم ہے جبکہ زیادہ تر اخراجات عرب حکمرانوں کے ذمے لگائے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں کچھ دن پہلے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا نام “منامہ اقتصادی کانفرنس” تھا۔ اس کانفرنس کو سینچری ڈیل کا مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

محمود عباس کی سربراہی میں فلسطین اتھارٹی سمیت تمام فلسطینی گروہوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اسی طرح عراق اور لبنان نے بھی فلسطینیوں سے حمایت کے اظہار کیلئے اس کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی اور امریکی حکام اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرالڈ کشنر نے کی۔ ان کے ساتھ چند امریکی سیاست دان اور تاجر بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس میں مصر کی نمائندگی اس کے وزیر خزانہ کر رہے تھے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر اقتصاد محمد التویجری اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیر اقتصاد عبد الطائر اپنی حکومتوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اسی طرح اردن کی وزارت خزانہ کے سیکرٹری بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ کانفرنس کے دیگر شرکاء میں بحرین اور مراکش شامل تھے۔

منامہ میں اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کے وقت کئی اسلامی ممالک میں اس کانفرنس کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ فلسطین، لبنان، تیونس اور اردن میں یہ مظاہرے منعقد کئے گئے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس کانفرنس کا مقصد خطے میں اقتصادی ترقی بیان کیا ہے لیکن درحقیقت یہ کانفرنس فلسطین کاز کو نقصان پہنچانے اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے منعقد کی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرالڈ کشنر نے سینچری ڈیل کے اہداف اقتصادی نوعیت کے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کے اہداف سیاسی اور قانونی ہیں۔ اس منصوبے میں فلسطینی جلاوطن مہاجرین کی وطن واپسی کو یکسر مسترد کیا گیا ہے جبکہ قدس شریف کی مرکزیت میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی نفی کی گئی ہے۔

اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ یہ کانفرنس امریکہ اور اسرائیل کو ان کے اہداف کے حصول میں کس قدر مددگار ثابت ہو گی، اس کانفرنس نے فلسطین میں سرگرم تمام سیاسی اور جہادی گروہوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی فضا قائم ہونے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جو گذشتہ چند سالوں میں بہت کم پیش آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس ایسے ایشوز ہیں جن کی مخالفت حماس اور اسلامک جہاد جیسے اسلامی مزاحمتی گروہ بھی کر رہے ہیں اور فلسطین اتھارٹی، فتح اور پی ایل او جیسی اسرائیل سے مذاکرات کی حامی جماعتیں بھی کر رہی ہیں۔ اس بات کا قومی امکان بھی موجود ہے کہ یہ سنہری موقع میسر آنے اور عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز کے نتیجے میں ایک نیا انتفاضہ معرض وجود میں آ جائے گا۔ گذشتہ انتفاضوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ اگر نیا انتفاضہ شروع ہوتا ہے تو فلسطینیوں کیلئے اس کے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے۔

ماضی میں فلسطینیوں کو ان کے مسلمہ حقوق سے محروم کرنے کی کئی کوششیں انجام پا چکی ہیں۔ بالفور اعلامیہ اور ۱۹۴۸ء اور ۱۹۶۷ء کی جنگیں ایسی کوششوں کی چند مثالیں ہیں۔ لیکن یہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور اس وقت سینچری ڈیل کی صورت میں انجام پانے والی حالیہ کوشش بھی ناکام رہے گی۔ منامہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس اور اس جیسی مشابہہ کانفرنسز کے مشترکہ اہداف میں ایران فوبیا اور میڈیا کے سامنے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات ظاہر کرنا شامل ہیں۔

بقلم فاطمہ محمدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس ایسے ایشوز ہیں جن کی مخالفت حماس اور اسلامک جہاد جیسے اسلامی مزاحمتی گروہ بھی کر رہے ہیں اور فلسطین اتھارٹی، فتح اور پی ایل او جیسی اسرائیل سے مذاکرات کی حامی جماعتیں بھی کر رہی ہیں۔ اس بات کا قومی امکان بھی موجود ہے کہ یہ سنہری موقع میسر آنے اور عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز کے نتیجے میں ایک نیا انتفاضہ معرض وجود میں آ جائے گا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سینچری ڈیل منصوبہ پیش کیا ہے جس میں ۵۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں بعض ایسی شقیں شامل ہیں جن کے باعث فلسطینی گروہوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ اسی مخالفت کو کم کرنے کیلئے اس منصوبے میں وسیع پیمانے پر اقتصادی پیکجز شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں ۱۷۹ تجارتی پراجیکٹس بھی شامل ہیں جن کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ۲۸ ارب ڈالر جبکہ مصر، اردن اور لبنان میں مقیم فلسطینیوں کیلئے بھی کئی ارب ڈالر کے پیکجز شامل ہیں۔ ان بھاری بھرکم اخراجات میں امریکہ کا حصہ بہت کم ہے جبکہ زیادہ تر اخراجات عرب حکمرانوں کے ذمے لگائے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں کچھ دن پہلے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس کا نام “منامہ اقتصادی کانفرنس” تھا۔ اس کانفرنس کو سینچری ڈیل کا مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

محمود عباس کی سربراہی میں فلسطین اتھارٹی سمیت تمام فلسطینی گروہوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اسی طرح عراق اور لبنان نے بھی فلسطینیوں سے حمایت کے اظہار کیلئے اس کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی اور امریکی حکام اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرالڈ کشنر نے کی۔ ان کے ساتھ چند امریکی سیاست دان اور تاجر بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس میں مصر کی نمائندگی اس کے وزیر خزانہ کر رہے تھے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر اقتصاد محمد التویجری اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیر اقتصاد عبد الطائر اپنی حکومتوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اسی طرح اردن کی وزارت خزانہ کے سیکرٹری بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ کانفرنس کے دیگر شرکاء میں بحرین اور مراکش شامل تھے۔

منامہ میں اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کے وقت کئی اسلامی ممالک میں اس کانفرنس کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ فلسطین، لبنان، تیونس اور اردن میں یہ مظاہرے منعقد کئے گئے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس کانفرنس کا مقصد خطے میں اقتصادی ترقی بیان کیا ہے لیکن درحقیقت یہ کانفرنس فلسطین کاز کو نقصان پہنچانے اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے منعقد کی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرالڈ کشنر نے سینچری ڈیل کے اہداف اقتصادی نوعیت کے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کے اہداف سیاسی اور قانونی ہیں۔ اس منصوبے میں فلسطینی جلاوطن مہاجرین کی وطن واپسی کو یکسر مسترد کیا گیا ہے جبکہ قدس شریف کی مرکزیت میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی نفی کی گئی ہے۔

اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ یہ کانفرنس امریکہ اور اسرائیل کو ان کے اہداف کے حصول میں کس قدر مددگار ثابت ہو گی، اس کانفرنس نے فلسطین میں سرگرم تمام سیاسی اور جہادی گروہوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی فضا قائم ہونے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جو گذشتہ چند سالوں میں بہت کم پیش آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس ایسے ایشوز ہیں جن کی مخالفت حماس اور اسلامک جہاد جیسے اسلامی مزاحمتی گروہ بھی کر رہے ہیں اور فلسطین اتھارٹی، فتح اور پی ایل او جیسی اسرائیل سے مذاکرات کی حامی جماعتیں بھی کر رہی ہیں۔ اس بات کا قومی امکان بھی موجود ہے کہ یہ سنہری موقع میسر آنے اور عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر سینچری ڈیل اور منامہ کانفرنس کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز کے نتیجے میں ایک نیا انتفاضہ معرض وجود میں آ جائے گا۔ گذشتہ انتفاضوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ اگر نیا انتفاضہ شروع ہوتا ہے تو فلسطینیوں کیلئے اس کے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے۔

ماضی میں فلسطینیوں کو ان کے مسلمہ حقوق سے محروم کرنے کی کئی کوششیں انجام پا چکی ہیں۔ بالفور اعلامیہ اور ۱۹۴۸ء اور ۱۹۶۷ء کی جنگیں ایسی کوششوں کی چند مثالیں ہیں۔ لیکن یہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور اس وقت سینچری ڈیل کی صورت میں انجام پانے والی حالیہ کوشش بھی ناکام رہے گی۔ منامہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس اور اس جیسی مشابہہ کانفرنسز کے مشترکہ اہداف میں ایران فوبیا اور میڈیا کے سامنے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات ظاہر کرنا شامل ہیں۔

بقلم فاطمہ محمدی