8 مئی 2019 - 17:18
ایران نے ایٹمی معاہدے کے بعض اقدامات پر عملدرآمد روک دیا

ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری اور یورپی ملکوں کی جانب سے اپنے وعدوں کی تکمیل میں مسلسل کوتاہی برتنے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران آج سے بعض ایٹمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے جاری کردہ بیان میں ایٹمی معاہدے میں شامل ممالک کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آج آٹھ مئی دوہزار انیس سے ایران، جوہری معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے تحت جو اقدامات کرنے کا پابند تھا ان میں سے بعض پر عملدرآمد کو روک رہا ہے۔بیان میں کہا  گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی کو ایک سال گزر گیا اور اس دوران ایران نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر فریقوں کو اس نقصان کا ازالہ کرنے کا کافی وقت دیا۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے میں شامل دیگر فریقوں کوساٹھ دن کا وقت دیا جاتا ہے تا کہ وہ تیل اور بینکاری لین دین کے علاوہ دیگر شعبوں سے متعلق ایران کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد شروع کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جب ایران کے مطالبات پورے کردیئے جائیں گے تو تہران بھی مقابل فریقوں کے اقدامات کے تناسب سے بحال کی گئی ایٹمی سرگرمیاں دوربارہ روک دے گا بصورت دیگر اگلے مرحلے میں بعض دوسری ایٹمی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔اس بیان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران خود کو بھاری پانی اور افزودہ یورینیم کی مقدار کے حوالے سے مقررہ شرائط پر عملدآمد کا پابند نہیں سمجھتا۔بیان میں آیا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ ممالک نے ساٹھ روز کے اندر اندر ایران کے جائز اور قانونی مطالبات پورے نہ کیے تو اگلے مرحلے میں یورینیم کی افزدگی  کی سطح میں اضافہ اور اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی جدید کاری کا عمل شروع کردیا جائےگا، جسے ایٹمی معاہدے کے تحت روک دیا گیا تھا۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے بیان میں آیا ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں باقی رہنے والے ارکان کے ساتھ گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے تاہم ہر قسم کے غیر ذمہ دارانہ اقدام من جملہ ایران کے کیس کو سلامتی کونسل میں بھیجنے یا مزید پابندیوں کی صورت میں سخت رد عمل سامنے آئے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے نے اپنی چودہ رپورٹوں میں اس معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲