15 فروری 2019 - 20:13
محمد بن سلمان اعلانیہ دشمن ہے امام مہدی (عج)

محمد بن سلمان ـ جو ایم بی ایس کہلوا کر خوش ہوتے ہیں ـ نے اسلام کے مسلّمات کا انکار کرتے ہوئے "ایران کی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے ماحول سازی" کو ایران کے ساتھ اپنی دشمنی کا سبب قرار دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس نے ایران کے ساتھ دشمنی کی ایک وجہ یہی بتائی ہے کہ ایران امام زمانہ کے انتظار اور ان کے ظہور کے لئے ماحول سازی کررہا ہے۔
ایسا شخص جس کو شمالی افریقہ کے عرب ممالک نے دھتکارا اس لئے کہ اس نے یمنی بچوں کو بھی شہید کیا ہے ہزاروں کی تعداد میں، لاکھوں کی تعداد میں وبا سے دوچار کیا اور کروڑوں کی تعداد میں بیماریوں اور بےخانمانی اور سب سے زیادہ وحشیانہ یہ کہ بھوک میں مبتلا کیا اور پھر اپنے ہی ایک وفادار قلمکار و صحافی جمال خاشقجی (یا خشوگی) کو بےدردی سے استنبول میں سعودی قونصلیٹ کے اندر قتل کروایا۔
محمد بن سلمان ـ جو ایم بی ایس کہلوا کر خوش ہوتے ہیں ـ نے اسلام کے مسلّمات کا انکار کرتے ہوئے "ایران کی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے ماحول سازی" کو ایران کے ساتھ اپنی دشمنی کا سبب قرار دیا۔
ایم بی ایس کو پاکستانی پسند ہیں کیونکہ جنرل راحیل شریف یمنیوں کے قتل عام مین ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں، اور پاکستان کو ہمیشہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور عمران کو بھی بھی ایم بی ایس پسند ہیں کیونکہ ایم بی ایس نے شہزادوں اور تاجروں کو قید کرکے ان سے کافی شافی رقم بطور "مونچھ ٹیکس" وصول کرلی ہے اور وہ پاکستان کو بھی کچھ رقم دے سکتے ہیں۔ بنی سعود کی وکالت کے لئے مشہور امریکی صدر تو ڈانلڈ ٹرمپ نے تو سعودی عرب کو شیردار گائے (Lactating cow) کے تعظیم و تکریم بھرے لقب سے نوازا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کا دودھ دوہ لیں گے اور جب دودھ نہ رہے گا تو اسے ذبح کریں گے! اب یہ شیردار گائے پاکستان آرہی ہے تو اماراتی ولیعہد کے دورے کی عظیم ترین شرمندگی موہ لینے والے وزیر اعظم نے بھی سوچ لیا ہوگا کہ خزانے میں کچھ پیسے آئیں گے لیکن یہ بات سن کر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی عوام میں سے بھی کچھ طبقات بڑے خوش ہیں ان کے آنے کے لئے اور وہ شیعوں کو مورد الزام ٹہرا رہے ہیں کہ انھوں نے بن سلمان کے خلاف تشہیری مہم چلائی ہے!
اصل موضوع یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے تکفیری اپنے سوا کسی کو مسلمان نہيں سمجھتے سوا ان لوگوں کے جو انہیں ڈالروں، ریالوں، درہموں، لیبائی، کویتی اور بحرینی دیناروں سے نوازتے ہیں خواہ وہ بے دین یا یہود و ہنود کیوں نہ ہوں۔
کسی زمانے میں ایک محفل میں بیٹھے تھے، تو کسی وقت جھنگ شہر کے کنٹرول روم کے سپرنٹنڈنٹ بھی بیٹھے تو جو کہہ رہے تھے: ہمیں حکم ملا کہ جائیں سپاہ صحابہ کہلوانے والی تکفیری جماعت کے دفتر پر ہلہ بول دیں، ہم نے [خلاف معمول، تکفیری سرغنوں کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر] چھاپہ مارا اور سب کچھ ضبط کیا تو ہمیں وہاں چیک ملے: بھارتی بینکوں کے، یہودی ریاست کے بینکوں کے اور سعودی و اماراتی بینکوں کے وغیرہ وغیرہ؛ تو میں عرض کررہا تھا کہ پیسہ کافروں کا بھی مسلمان ہے ان جماعتوں کے لئے!!!
ہمارے ہاں کے یہ خارق العادہ مسلمان Ultra muslims خود دین اور اسلام کا معیار ہیں لیکن انہیں ایم بی ایس کے دین سے انحرافات بھی نظر نہیں آتے اور مقدس سرزمین پر خواتین کو مغربی طرز کی آزادیاں دینے پر بھی ناراض نہیں ہیں، یہودیوں کے ساتھ اس کی غیر معمولی دوستی، نصرانیوں کی غلامی، بھارت کے ساتھ عجیب دوستی، بالکل اہم نہیں ہے کیونکہ وہ بدستور سعودی خزانوں کے مالک ہیں اور پیسہ دے سکتے ہیں گوکہ سننے میں یہ آیا ہے کہ ایم بی ایس نے مغرب کو وہابیت اور تکفیر کی عدم حمایت کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ "وہابیت سرد جنگ کے دوران امریکہ اور یورپ کی ضرورت تھی، اب چونکہ یہ ضرورت نہیں رہی ہے تو سعودی عرب کی نئی حکومت وہابیت کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی" جو کہ پاکستانی تکفیریوں کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔
اگر ہم قبلہ اول کے سودے [صدی ڈیل]، یمن کے قتل عام ، شام اور عراق کے قتل عام اور نئے طرز کی دہشت گردی کو ایم بی ایس سے ہٹا دیں تو ان کی افادیت ختم ہوکر رہے گی اور اگر ان کی یہ بات درست ہو کہ وہ مزید وہابیت اور تکفیریت کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے اور اس کی پشت پناہی چھوڑ دیں گے تو پاکستان کے الٹرا مسلمان تکفیریوں کے لئے بھی ان کا استقبال چنداں بجا اور مناسب نہ رہے گا۔
بہرصورت وہ پاکستان آرہے ہیں، "لونگ" کے عادی یہودی نواز حکمرانوں کے لئے کچھ تحفے تحائف، گھڑیاں یا کچھ امدادی رقم دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے، لارہے ہونگے لیکن تکفیری جماعتوں اور نجف اور قم کے بجائے لندن کے بھجوائے گئے مبلغین سے متاثر ہوکر ان کے استقبال کی تیاریاں کرنے والوں کے لئے وہ کچھ بھی نہيں لا رہے ہیں۔
کچھ لوگوں نے پاکستان میں یہودی ریاست کو تسلیم کروانے کے لئے ماحول سازی کی غرض سے ایم آئی سکس کے تبلیغی دفتر لندن سے آنے والے ـ اور بنی سعود و بنی یہود سے رقم لے کر دین مبین کا چہرہ بگاڑنے کے لئے کوشاں ـ مبلغین کی تشہیری مہمات کے زیر اثر ایک پوسٹ چلائی تھی اور لکھا تھا کہ "بہتر ہے ہم ایم بی ایس سے جنت البقیع کی تعمیر کا مطالبہ کریں!"

یہ وہی شخص ہے جس نے شام کے شیعہ ـ سنی عوام کا قتل عام کروایا، عورتوں کی بےحرمتی کروائی، روضہ عقیلۂ بنی ہاشم کو شہید کرنے کی کوشش کی اور اگر مدافعین حرم نہ ہوتے تو معلوم نہیں کہ لیبیا کے بعد شام کا کیا حال ہوجاتا اور آج یہ جنگ کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہوتی اور کیا پاکستان اس سے محفوظ رہتا؟
عراق میں داعش کے ذریعے عورتوں کی بے حرمتی اور مردوں کا قتل عام کیا؛ سامراء میں روضہ مبارک کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی اور اگر مدافعین حرم نہ ہوتے تو کوئی حرم محفوظ نہ رہتا۔
یمن کے مظلوم عوام پر چار سال سے ایم بی ایس کے امریکی ساختہ جنگی طیارے بےرحمانہ بمباری کررہے ہیں، ہزاروں بچے بھوک اور گولہ باری کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں
پاکستان میں شیعہ اور سنی عوام اور فوج اور سرکاری اداروں کا قتل عام کرنے والے تکفیری ٹولوں کو ملنے والی سعودی امداد کی سب سے بڑی گواہی آج ایم بی ایس کے خبر مقدم کے لئے ان ٹولوں کے اندر پایا جانے والا جوش و خروش ہے۔ کوئی مجھے بتائے ان ٹولوں نے ایم بی ایس اور ان کے اسلاف سے موصولہ فنڈز سے کتنے پاکستانیوں کا خون کیا ہے؟ کیا خیر کی امید رکھی جاسکتی ہے ایسے کسی حکمران سے؟
کیا ہم بھول سکتے ہیں کہ ہمارے ایک فوراسٹار جنرل کو ایم بی ایس نے امریکی بھتہ خور صدر کے استقبال کے لئے بننے والے سیکورٹی منصوبے کے دوران کس قدر خفت سے دوچار کیا اور ایک امریکی کیپٹن کے منصوبے کو ان کے منصوبے پر مقدم رکھا؟
کیا ہم بھول سکتے ہیں کہ اس شخص نے مغربی جرائد کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم امام مہدی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور میری ایران کے ساتھ دشمنی کا سبب یہی ہے کہ وہ امام مہدی کے ظہور کے لئے ماحول سازی کررہے ہیں؟ امام مہدی کا دشمن ائمہ بقیع کا دوست کیونکر ہوسکتا ہے؟
کیا ہم شہید نمر کو بھول سکتے ہیں جن کو سابق ولیعہد اور منشیات کے الزام میں ولیعہدی سے برطرف کئے جانے والے محمد بن نائف نے شہادت سے قبل زد و کوب کیا اور ان کے ہاتھ پاؤں توڑ دیئے اور پھر بنی سعود کی دہشت گردانہ تلوار سے ان کا سر بدن سے جدا کیا گيا؟
کیا ہم مدینہ، دمام، احساء، قطیف، العوامیہ میں شیعیان اہل بیت کے ساتھ بنی سعودی اور بطور خاص ایم بی ایس کے وحشیانہ رویوں کو بھول سکتے ہیں؟

ایم بی ایس نے اسلام کے دشمنوں کے ساتھ فلسطین اور قبلہ اول کا سودا کرکے، حجاز کے عوام کی دولت کو امریکی خزانوں کی نذر کرکے، دشمنان اسلام کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی کرکے، یہود و نصاری کی محبت میں دیوانگی کی حد تک آگے بڑھ کر، مقدس سرزمین میں بےحیائی کے منصوبے پیش کرکے، ہالی ووڈ کی فحش اداکاراؤں کو ایک رات ساتھ گذارنے کے عوض کروڑوں پیٹروڈالروں کی پیشکش کرکے، ثابت کردیا ہے کہ نہ صرف وہ ایک اچھے مسلمان نہیں ہیں بلکہ اسلام کے دشمن ہیں اور اسلام دشمنی کے ثبوت دے کر مغرب کی مدد سے حکمرانی کے مزے چکھنے کے منصوبے بنا رہے ہیں ـ باپ کے جانشین بن کر ـ تو ایسے شخص کو کس تاریخی کردار سے تشبیہ دی جاسکتی ہے؟ کعب بن اشرف، یزید اور ان جیسوں کے کردار پر پرکھیں، شمر و حرملہ کے کردار سے موازنہ کریں، جو بھی کریں لیکن وہ کسی صورت میں بھی حق کے پیروکاروں کے خیرمقدم کے لائق نہیں ہیں۔
چنانچہ اپیل کی جاتی ہے کہ اگر لاکھوں مسلمانوں کے قاتل کی آمد کو روکنا ممکن نہیں ہے، اور اگر اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو کم از کم اس سے کسی خیر کی توقع نہ رکھیں اور یاد رکھیں کہ ایم بی ایس سے جنت البقیع کی تعمیر کا مطالبہ درحقیقت ان کے استقبال میں شرکت ہے۔ لہذا اگر کچھ بھی ممکن نہیں ہے تو کم از کم ان کے استقبال سے پرہیز کرنے اور یوں ابدی روسیاہی سے بچ کر رہنے اور مستقبل کی نسلوں کی لعنت سے جان چھڑانے ہی عقلمندی کا تقاضا ہے۔
بقلم: ابو بصیر بیت المقدسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲