اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیرس، فرانس، اپریل 2017: مکرون نے مزدوروں کے حقوق پر اپنا حملہ نمایاں کردیا۔
پیرس، فرانس: دسمبر 2018: فرانس سے محنت کش طبقے کی ممکنہ عالمی بغاوت کا آغاز، پیلی واسکٹوں والوں نے سڑکوں پر قبضہ کرلیا۔
تقریبا 75٪ فرانسیسی پیلی واسکٹوں کی حمایت کررہے ہیں اور یہ حمایت تشدد کے باوجود جاری رہی ہے۔ (1)
یہ کہ کیا پیلی واسکٹوں والی بغاوت ملک کے قائم نظام کے لئے بڑا خطرہ ہوگا، یا نہیں ہوگا؛ کوئی بھی کچھ نہیں جانتا اور یہ کہ یہ کس طرح آگے بڑھے گی۔
اس کے باوجود، ایک دھیمی سی صدا برسوں سے واضح طور پر سنائی دینے لگی تھی۔ جب دنیا نے 1٪ اور باقی انسانوں کے درمیان کی تقسیم کو تسلیم کرلیا، میدان کو ـ پیلی واسکٹ تحریک کی طرح کی تحریکوں کے لئے ـ بھڑک اٹھنے کے لئے تیار کرلیا گیا تھا؛ چنانچہ لاکھوں لوگوں نے چکمدار پیلی واسکٹیں پہن لیں اور سڑکوں پر حملہ آور ہوئے۔
لاکھوں خواتین ـ سڑک کے کنارے کھڑے مزدوروں کی طرح ـ چمکدار واسکٹیں پہن کر سڑکوں پر کیوں آئیں؟ جواب یہ ہے کہ وہ تھک چکی ہیں۔
اور، یہ لاکھوں پیلی واسکٹوں والے آئے کہاں سے؟ 2008ع میں فرانس نے ایک قانون منظور کیا کہ حفاظتی اقدام کے طور پر ـ سڑک کے کنارے گاڑی سے نکلنے کے لئے ـ تمام ڈرائیور بہتر دکھائی دینے والی واسکٹیں اپنی گاڑیوں میں رکھا کریں؛ چنانچہ ہر فرانسیسی جو گاڑی کا مالک ہے، اس کے پاس ایک پیلی واسکٹ بھی ہے۔
بے شک کہا جاسکتا ہے کہ "نولبرل عالمگیریت" نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران ماحول کو درمیانی طبقے کی تحلیل کے لئے تیار کیا ہے کیونکہ اجرتیں پوری دنیا میں جنوب مشرقی ایشیا کی "غلام مزدوری" (Slave labor) کے بھنور میں گر چکی ہیں۔یہ پیلی واسکٹ تحریک کی پشت پر واقع مسئلے کا مرکزی نقطہ ہے۔ اگرچہ مکرون کے نئے ایندھن ٹیکس نے اس کو مشتعل کیا۔یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ محنت کش طبقات کا عالمی انقلاب رونما ہوسکتا ہے، جس میں 1٪ اعلی طبقے کے نیچے تمام تر طبقات حتی کہ درمیانی طبقے کا سب سے اونچا حصہ، بھی شامل ہونگے۔
اب تک عالمی سطح پر فرانسیسیوں کی تحریک کے اثرات بہت قوی تھے۔ مثال کے طور پر مصری پولیس نے پرچون کی دکانوں کو حکم دیا ہے کہ پیلی واسکٹیں بیچنے سے اجتناب کریں۔مصر کے بد سلوک اور آمر عبدالفتاح السیسی اپنا بازو فرانس میں دیکھ رہا ہے جہاں پیلی واسکٹوں نے قدم جما لئے ہیں اور ان کی تحریک گھر میں لگی آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔
کسی شک کے بغیر، بین الاقوامی تنظیمیں محنت کش طبقوں کے انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے سے گھبرائی ہوئی ہیں۔ فرانس میں محنت کشوں کی تحریک کے مطالبات میں سماجی مساوات، اجرتوں میں اضافے، عسکریت پسندی کی روک تھام، دولت ٹیکس کی دوبارہ بحالی، اور غیر مقبول حکومتوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ مکرون لوئی شانزدہم (Louis-Auguste) کے جدید دور کے قلمیئے (clone) کی طرح دکھائی دے رہے ہیں (جس کا سر 1793 میں قلم کردیا گیا تھا)۔
حال ہی میں مکرون نے پیلی واسکٹوں والوں کے مطالبے پر کچھ رعاتیں دی ہیں لیکن وہ متاثر نہیں ہورہے ہیں! یہ سب پوری [سرمایہ دار] دنیا میں ایک انقلاب کی دہائی دے رہا ہے؛ یہ بہت سادگی سے جاری رہنے والی، خوفناک طور پر طاقتور ہے۔
الجزائر میں، مظاہرین نے ناکام ہونے والے نظام کے جواب میں پیلے رنگ کے بنیان کو عطیہ دیا، کیونکہ خاندان کے بعد خاندان زندگی کی بنیادی چیزوں کو برداشت نہیں کرسکتا.
تیونس میں ایک "لال واسکٹوں والے نئے گروپ" نے تیونس کے حکومتی نظام کے خلاف ـ جو کہ بالقصد، دانستہ اور باقاعدہ طور پر غربت کو فروغ دے رہا ہے ـ احتجاج کی دعوت دی ہے۔
بلجیئم میں پولیس نے نہایت تشدد آمیز چھاپے مار کر پیلی واسکٹوں والے کچھ ناراض گروپوں کو گرفتار کیا ہے جن کے مطالبات فرانسیسیوں سے مشابہت رکھتے تھے۔
عراق کے شہر بصرہ میں پیلی جیکٹوں والوں نے، نیٹو کی پشت پناہی میں قائم نوسامراج (neocolonial ) کی حکمرانی میں، پینے کے پانی کی وسیع آلودگی اور نہایت کمزور شہری خدمات نیز حکام کی بدعنوانی پر احتجاج کیا ہے۔ درین اثناء 243 کلومیٹر دور، دارحکومت بغداد میں، پیلی واسکٹوں والے فرانسیسیوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لئے سڑکوں پر آئے ہیں۔
پیلی واسکٹ محنت کش طبقے کے تمام اندیشوں کے اظہار کا نشان بن چکی ہیں۔ در حقیقت یہی وہ طریقہ ہے جس سے انقلابات کا سنجیدگی سے آغاز ہوتا ہے۔یہ ایک [نئے] عالمی نظام کی طرف اشارہ ہے جو چڑچڑا، غضبناک اور اپنی پہلی چنگاریاں دکھا کر لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہے۔
نہ صرف طبقاتی تقسیم بلکہ دبا ہوا سماجی غم و غصہ ابھر کر نمایاں ہوجاتا ہے جب لوگ دیکھتے ہیں کہ انہیں لمبے عرصے تک غافل رکھا گیا ہے۔ مکرون کی حکومت میں ـ بطور مثال ـ جزوقتی ملازمتوں کے لئے امدادی بجٹ کو حذف کیا گیا؛ کم آمدنی والے لوگوں کے لئے رہائشی امداد کو کاٹ دیا گیا؛ پنشن کے بینک چیکوں کو منسوخ کردیا گیا؛ جبکہ ان کی جگہ مکرون نے [سرمایہ داروں اور مقتدر بھنیوں پر عائد] دولت ٹیکس کو منسوخ کردیا، جس کا مقصد "باقی سب" کی قیمت پر صاحبان ثروت کو مزید تحائف پیش کرنا تھا۔یہ جاننے کے لئے کسی محتسب کی ضرورت نہیں ہے کہ محنت کش طبقے سے ہونے والی کٹوتیوں کی مدد سے بھنیوں کی ٹیکس کٹوتی کو پورا کردیا گیا ہے۔
مزید برآں، جب عوام ـ فرانس میں ایندھن ٹیکس عائد ہونے پر عوام کی بغاوت کی طرح ـ سڑکوں پر اپنی مخالفت کی صدا بلند کرتے ہیں، تو بہت سے دوسرے مسائل بھی ابھر آتے ہیں اور لوگوں کی توجہ ان مسائل پر بھی مرکوز ہوجاتی ہے۔ بطور مثال فرانس کے 200 اسکولوں کے طلبہ نے ہائی اسکولوں اور بی اے / بی ایس سی کے امتحانات اور ہائی تعلیم کے لئے داخلوں کے طریق کار میں ترامیم پر احتجاج کیا اور جامعات کے طلبہ حال حاضر میں ٹیوشن فیس میں حالیہ اضافے پر احتجاج کررہے ہیں۔
چار الفاظ یعنی "پیلی واسکٹ" اور "ایک فیصد" نے مل کر ہر ناانصافی سے معرض وجود میں آنے والی ناراضگی کے خلاف آتشی طوفان کو جنم دیا ہے؛ وہی ناانصافی اور عدم مساوات جس کی ترویج سرمایہ دارانہ عالمگیریت کی مکمل ناکامی کے ذریعے کی جارہی ہے اور انہیں نو لبرل رجحانات کے ذریعے متعین کیا جاتا ہے۔
لگتا ہے کہ دنیا اپنا راستہ کھو چکی ہے، اور پیچ و خم سے بھرپور، بے مقصد راستے پر گامزن ہوچکی ہے، اسی لئے وہ صرف دولت کی تعظیم کرتی ہے نہ کسی اور چیز کی۔
سنہ 2010ع کے بعد رونما ہونے والی عربی بہار کی طرح، ہر چھوٹا واقعہ ایک بڑے واقعے کی عکاسی کرتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ ایک سرمایہ دارانہ نظام کے اندر پھٹ کر انقلاب پر منتج ہو یا نہ ہو! وہی سرمایہ داری نظام جو بہت ہی شرمناک انداز سے دنیا بھر کر محنت کشوں کو بھوک سے مارکر امیروں کو اجر و پاداش دیتا ہے، تاہم سماجی ذرائع ابلاغ (social media) جدوجہد کرتے ہیں۔
ناراضگی اور غم و غصے کا تعلق کفایت شعاری کے منصوبوں سے ہے۔
مثال کے طور پر، انتہائی غربت اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر فلپ آلسٹن (Philip Alston) نے برطانیہ میں کفایت شعاری کی پالیسیوں کو "مجرمانہ، اور بےرحمانہ نیز تعزیری پالیسیاں قرار دیا ہے جو ڈرامائی طور پر منقطع گروپوں پر مشتمل ایک مکمل طور پر اجنبی معاشرے کے اسباب فراہم کررہی ہیں؛ ایسے منقطع گروپ جو نہایت اعلی سطحی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا پھر بہت ہی غریبانہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں اور حتی اگر بر سر روزگار بھی ہیں، انہیں [اپنی غذائی ضروریات کے لئے] "فوڈ بینکوں" کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ (2)
کفایت شعاری کی پالیسیوں (Austerity policies) اور ان کے عواقب و نتائج کے سلسلے میں فلپ آلسٹن کی رپورٹ پوری دنیا کے بڑے ترقییافتہ ممالک میں پر بھی صادق آتی ہے، جبکہ یہ پالیسیاں ترکی، اطالیہ، یونان، فرانس، پرتگال، ہسپانیہ، آئرلینڈ میں آج کا رجحان سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان ممالک کو یورپییونین اور آئی ایم ایف کا اطمینان درکار ہے کہ وہ اپنے قرضے جلد از جلد ادا کریں گے۔
اس کے باوجود، انقلابات کو انجام تک پہنچانے کے لئے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے: امریکی انقلاب سنہ 1775ع سے سنہ 1783ع تک، چین کا کمیونسٹ انقلاب سنہ 1945ع سے سنہ 1950ع [بلکہ سنہ 1949ع] تک، کیوبا کا انقلاب سنہ 1953ع سے سنہ 1959ع تک، جرمنی، فرانس، اٹلی اور آسٹریا میں بادشاہت کے خلاف اقوام کے انقلابات کی بہار سنہ 1848ع سے سنہ 1852ع تک۔
انقلابات شرافت کو نقصان پہنچنے سے شروع ہوجاتے ہیں۔ آج کی دنیا محنت کش غرباء کے لئے ناامیدیوں اور مایوسیوں سے بھری ہوئی ہے۔ پیلی واسکٹوں کی تحریک کا سبب یہ ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام محنت کش طبقے کو ترقی دینے اور محرومیوں نجات دلانے میں ناکام ہوچکا ہے یہی نہیں بلکہ اس نے محنت کش طبقے کی گردن پر پاؤں رکھے ہوئے ہے۔
بہر حال یہ موقع بالکل مختلف ہے، پیلی واسکٹوں کی تحریک سوشل میڈیا کے ذریعے "ہیچ جگہ" (nowhere) سے شروع ہوئی۔ پیلی واسکٹوں والے منظم انجمنوں یا سیاسی جماعتوں کی پیداوار نہیں ہیں۔ ان کی بے ترتیبی اور ڈھانچے کی عدم موجودگی، قیادت کا فقدان انہیں بہت مستحکم اور طاقتور بنا دیتا ہے اور حکومت اور پولیس کے لئے ان سے نمٹنے کو بہت دشوار بناتا ہے۔ وہ احتجاج کے کسی تدوین شدہ قاعدے کی پیروی نہیں کرتے: مختلف النوع مطالبات کی سطح، ماحولیاتی ٹیکس سے لے کر مسٹر مکرون کے استعفا یا حتی اس کی جگہ فوجی جنرل کی تقرری تک۔ (3)
- “La République en Flammes”, The Economist, December 8-14, 2018.
- “UN Special Rapporteur Makes damning Criticism of Austerity”, National Survivor User Network, November 2018.
- “La République en Flammes”, The Economist, December 8-14, 2018.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: رابرٹ ہونزیکر (Robert Hunziker)
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://orbitt.net/category/president-emmanuel-macron/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰