2 دسمبر 2018 - 15:56
گروپ 20 کا تیرہواں سربراہی اجلاس ارجنٹائن کے دارالحکومت بوینس آئرس میں ختم / اختتامی بیان

گروپ بیس کا تیرہواں سربراہی اجلاس ارجنٹائن کے دارالحکومت بوینس آئرس میں ختم ہو گیا ہے۔ اجلاس کے اختتامی بیان میں عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں کے معاہدے، پیرس پیکٹ کی پابندی اور کثیر فریقی تعاون کی پالیسی جاری رکھے جانے پر زور دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس اجلاس پر اپنا یکطرفہ ایجنڈا تھوپنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بوینس آئرس میں جمعے اور ہفتے کو ہونے والا یہ اجلاس امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ، آبنائے کرچ میں یوکرین اور روس کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نیز یمنی عوام کے قتل عام اور مخالف صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے سعودی ولی عہد پر پڑنے والے عالمی دباؤ کے سائے میں منعقد ہوا۔

مذکورہ معاملات کی وجہ سے پورے اجلاس پر کشیدگی کا ماحول سایہ فگن رہا، فریقین کے درمیان اور خاص طور سے امریکہ کے ساتھ پائے جانے والے اختلافات اپنا اثر دکھاتے رہے۔
گروپ بیس کے سربراہوں نے اپنے اختتامی بیان میں عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان تجارتی اختلافات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
اس بیان میں اعتماد کی تقویت اور مالی نقصان کے خطرات کو دور کرنے کے لیے مذاکرات اور صلاح و مشورے کے عمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
گروپ بیس کے اختتامی بیان میں بھرپور وسائل کے حامل ایک طاقتور عالمی بینک کی نگرانی محفوظ عالمی مالیاتی نظام کو زیاد سے زیادہ مضبوط بنانے کے عہد کا اعادہ کیا گیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ کثیر فریقی تجارتی نظام اپنے اہداف کے حصول میں پیچھے رہ گیا ہے تاہم اس کی بہتری کے لیے ماحول اب بھی پوری طرح سازگار ہے۔
امریکہ کے سوا گروپ بیس کے تمام سربراہوں نے ہر ملک کی اندرونی صورتحال اور استعداد کے لحاظ سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس معاہدے پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔
یہ بیان گروپ بیس کے سربراہوں کے درمیان مذاکرات اور اختلافات کے درمیان جاری کیا گیا ہے۔
گروپ بیس انیس ممالک اور پورپی یونین پر مشتمل ہے۔ ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، چین، جرمنی، برطانیہ، ہندوستان، انڈونیشیا، اٹلی، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی اور امریکہ شامل ہیں۔

.......

/169