اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی اخبار میڈل ایسٹ آئی کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی انٹیلی جینس کے افسر ماہر عبدالعزیز مترب نے، جو خاشقجی کے قتل میں شامل تھا مقتول خاشقجی کی لاش کو ایک بڑے بیگ میں بھر کے اسے ترکی سے باہر منتقل کر دیا-
سعودی انٹیلی جینس افسر مترب، جسے سعودی ولیعہد کے ملکی اور غیر ملکی دورے میں اکثر اوقات ان کے ساتھ ہی دیکھا گیا ہے دو اکتوبر کو جس دن صحافی کا قتل ہوا ہے مقامی وقت شام تقریبا ساڑھے چھے بجے ترکی سے روانہ ہو چکا تھا-
مذکورہ سعودی انٹیلی جنس افسر چونکہ استنبول ہوائی اڈے کے وی آئی پی گیٹ سے ایئر پورٹ کو عبور کر رہا تھا اس لئے اس کے بیگ کی اسکریننگ بھی نہیں ہوئی اور اس کے خصوصی طیارے کی بھی تلاشی نہیں لی گئی کیونکہ اس وقت تک جمال خاشقجی کی گمشدگی اور قتل کی خبریں پوری طرح سے منظر عام پر نہیں آئی تھیں-
سعودی عرب نے خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے اٹھارہ روز بعد پچھلے سنیچر کو اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا-
خاشقجی کے قتل کی نوعیت کے بارے میں سعودی عرب نے جو بیان جاری کیا ہے اس کو دنیا تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے یہاں تک امریکی صدر ٹرمپ نے بھی جنھوں نے پہلے سعودی وضاحتی بیان کو تسلیم کر لیا تھا بعد میں کہہ دیا کہ سعودی حکومت خاشقجی کے کیس میں جھوٹ بول رہی ہے-
ایک ایسے وقت جب ترکی کی انٹیلی جینس ایجنسی اور دیگر ممالک کے ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولیعہد بن سلمان کے حکم پر ہوا ہے سعودی عرب کے اعلی حکام کوشش کر رہے ہیں کہ بن سلمان اور دیگر اعلی حکومتی عہدیداروں کو اس کیس سے لاتعلق ظاہر کریں-
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کا قتل ولیعہد کے علم میں لائے بغیر کیا گیا ہے-
اس درمیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنال نے لکھا ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ کے داماد جراڈ کوشنر سے کہا ہے کہ وہ اپنے خلاف مغرب کی بغاوت کو کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے-
بن سلمان کا یہ بیان خاشقجی کے قتل کے بعد ریاض حکومت کے خلاف یورپی ملکوں کے سخت ردعمل کے بعد سامنے آیا ہے-
یورپی یونین کہہ چکی ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے میں سعودی حکومت کے بیان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور قتل کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں-
بن سلمان کی پالیسیوں کے مخالف سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں وحشیانہ طریقے سے قتل کئے جانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاملے میں بار بار اپنے بیانات تبدیل کئے ہیں جبکہ امریکا کے دیگر سیاستدانوں نے اس معاملے میں سخت موقف اپنایا ہے۔
چنانچہ خود حکمراں جماعت کے سینیٹر باب کورکر نے کہا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں سعودی ولیعہد کا ہاتھ ہے اور قتل کے اس واقعے میں سعودی حکومت کے متضاد بیانات حقائق کے برخلاف ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲