19 اکتوبر 2018 - 09:14
بن سلمان کے خلاف بین الاقوامی نیز بنی سعود کی حرکت پذیری/ متبادل کون ہوگا

ایک قطری ویب گاہ نے ترکی میں مشہور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی اور اندرون خانہ بھی، سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا اقتدار ختم کرنے کے سلسلے میں حرکت پذیریوں کا دعوی کیا ہے۔ / خلیح آنلائن کے مطابق احمد بن عبدالعزیز اور لو فیگارو کے مطابق خالد بن سلمان متبادل ہوسکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ الخلیج آنلائن ویب گاہ نے "بن سلمان کی برخاستگی کے لئے بین الاقوامی کوششیں ۔۔۔ یہ لوگ ان ممکنہ متبادل ہیں"، کے عنوان سے اپنی ایک یادداشت میں، لکھا ہے کہ مغربی طاقتیں قببلہ بنی سعود کے کچھ افراد کے تعاون سے ولیعہد محمد بن سلمان کی برخاستگی اور ان کے بادشاہ بننے سے ممانعت کے لئے کوشاں ہیں۔
یادداشت کے اہم نکات:
دو اکتوبر 2018ع‍ کو سعودی عرب کے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے مشہور صحافی جمال خاشقجی ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ جنرل میں داخل ہوئے اور وہیں سے لاپتہ ہوئے تو بین الاقوامی رد عمل تیزی سے سامنے آیا؛ اب تک فرض یہ کیا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو بےدردی سے قتل کرکے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے ہیں اور یہ امر بھی ناقابل انکار ہے کہ اس قتل کے تانے بانے ولیعہد ایم بی ایس سے ملتے ہیں؛ چنانچہ امریکہ کے اندر کے کچھ فیصلہ ساز مراکز نے محمد بن سلمان کی والد کی جگہ بادشاہ بننے سے ممانعت کی کوششیں شروع کرلی ہیں۔
گوکہ خاشقجی کی موت و حیات کے بارے میں آخری نتائج ابھی منظر عام پر نہیں آئے ہیں، لیکن بعض اہم مغربی شخصیات اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد کے حالات اس سے پہلی کی طرح ہرگز نہیں ہونگے۔ اور وہ اس لئے بھی کہ تمام شواہد خاشقجی کے قتل کو ظاہر کررہے ہیں اور یہ کہ قتل کی یہ وحشیانہ واردات ـ اسی مقصد سے استنبول پہنچنے والے ـ بن سلمان کی بن سلمان کے خصوصی ٹیرر اسکواڈ کے ہاتھوں انجام کو پہنچی ہے۔
چنانچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اور بعض دوسرے نمایاں امریکی شخصیات نے دھمکی بھی دی کہ سعودی عرب ملوث پائے جانے کی صورت میں سزا پائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی بہت جلد بن سلمان کی حمایت ترک کرنے والے ہیں؛ اور وہ بھی ایسے حال میں کہ صدر ٹرمپ اور ان کے داماد جرڈ کوشنر نے اپنے مفادات کے لئے بن سلمان کے لئے لمبے چوڑے کھاتے کھول دیئے تھے۔
الخلیج آنلائن کے معتبر ذرائع کے مطابق، فی الحال بین الاقوامی سطح پر، عرب دنیا میں اور سعودی عرب کے اندر، بن سلمان سے جان چھڑانے اور ان کی سیاسی حیات کے خاتمے کے لئے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور وہ اس لئے کہ بن سلمان کی پالیسیوں نے اندرونی سطح پر بھی اور علاقائی سطح پر بھی اپنے ملک کو شدید بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔
ادھر سعودی عرب کی اندرونی فضا بھی ظاہر کررہی ہے کہ یہ ملک مستقبل قریب میں ایک بڑے فیصلے کے لئے تیار ہورہا ہے جس کے نتیجے میں شاہ سلمان اور ان کے بیٹے کے خلاف ایک ایسے شخص کو آگے لائے جانا مقصود ہے جس پر تمام فریق متفق ہوسکیں۔
بن سلمان اس وقت خاندان کے اندر پہلے سے کہیں زيادہ تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ سعودی شہزادوں کو ریز کارلٹن ہوٹل میں قید کرنے سے پہلے کے مرحلے سے بھی زیادہ، خطرہ محسوس کررہے ہیں جبکہ ان کے چچا احمد بن عبدالعزیز ـ جو سعودی بادشاہت کے لئے ان سے زیادہ اہل سمجھے جاتے ہیں، ملک سے باہر ہیں اور بن سلمان کے ارد گرد کے اداروں کو کچھ نہیں معلوم کہ احمد بن عبدالعزیز کیا منصوبے بنا رہے ہیں۔
قبیلہ بنی سعود کے اندرونی حلقے احمد بن عبدالعزیز کو سلمان اور بن سلمان کے خلاف بین الاقوامی اقدام کے لئے آمادہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور بعض مغربی حلقوں نے بھی انہیں تجویز دی ہے کہ شاہ سلمان کی ممکنہ جانشینی کو قبول کریں کیونکہ سلمان ملکی انتظام سے عاجز ہیں۔
احمد بن عبدالعزیز امریکی اور برطانوی حکومتوں کے با اثر اراکین کے ساتھ بہت مؤثر روابط رکھتے ہیں۔
ادھر سابق سعودی نائب وزیر خارجہ اور سابق بادشاہ کے فرزند عبدالعزیز بن عبداللہ پیرس میں ہیں اور فرانسیسی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ایم بی ایس کو بادشاہ نہ بننے دے اور سلمان بن عبدالعزیز کو ہٹا کر احمد بن عبدالعزیز کی حمایت کرے۔
احمد بن عبدالعزیز نے گذشتہ مہینے (ستمبر 2018ع‍) میں شاہ سلمان اور بن سلمان پر تنقید کرنے کے بعد لندن میں سکونت اختیار کی اور اسی وقت بہت سے مبصرین نے کہا کہ ان کے اس اقدام کا مقصد موجودہ بادشاہ اور ان کے بیٹے کی برخاستگی کے منظرنامے کے نفاذ کے سلسلے میں انجام پایا تھا۔
لندن پہنچنے کے بعد، ان کی رہائشگاہ کے سامنے یمن پر سعودی چڑھائی اور علاقے کے ممالک میں سعودی مداخلت کے خلاف مظاہرہ ہوا تو انھوں نے ان سے خطاب کرکے کہا: خاندان سعود کا کھاتہ سلمان اور بن سلمان کے کھاتے سے بالکل الگ ہے، لہذا آپ سلمان اور ان کے بیٹے پر تنقید کریں۔
اس واقعے کے بعد انٹرنیٹ کے سعودی صارفین نے ایک ٹوئیٹر ہیشٹیگ (#نبايعأحمدبنعبدالعزيزملكاً ہم بادشاہ کے طور پر احمد بن عبدالعزیز کی بیعت کرتے ہیں) شائع کرکے احمد بن عبدالعزیز کے بادشاہ بننے کا مطالبہ کیا۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جس طرح کہ امریکہ نے محمد بن سلمان کا پتہ (کارڈ) استعمال کرکے سابق ولیعہد محمد بن نائف کو برخاست کروایا تھا، اس بار وہ محمد بن سلمان کو ہٹانے کے لئے محمد بن نائف کا پتہ استعمال کرے۔ لیکن اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلمان بن عبدالعزیز اور بن سلمان نے جس خفت آمیز انداز سے محمد بن نائف کو برخاست کیا تھا، اس کی بنا پر ان کی سیاسی حیات کا بھی خاتمہ ہوچکا ہے اور ان کی اقتدار میں واپسی بہت دشوار ہے۔
بن نائف جون 2017ع‍ میں برخاست ہونے کے بعد نظربندی کی زندگی بسر کررہے ہیں، وہ کسی قسم کی سیاسی اور سماجی فعالیت سے محروم ہیں اور اپنے چچا زاد بھائی کے خلاف کسی قسم کی سرگرمی دکھانے سے عاجز؛ کیونکہ بن سلمان نے ان کی برخاستگی کے بعد ذرائع ابلاغ کے ذریعے انہیں بدنام کردیا تھا۔
مبصرین طاقت کی رسہ کشی کے سلسلے میں بنی سعود کے شہزادوں کے نتائج سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ایسے انتباہات بھی پائے جاتے ہیں کہ بن سلمان کسی بھی بااثر رقیب کو منظر سے ہٹانے کے لئے اپنی مالی قوت کو بروئے کار لاتے ہیں اور ہر خشک و تر کو یکسان طور پر جلا کر راکھ کردیتے ہیں اور ان ہی کوشش ہے کہ اپنا نام نوجوان ترین سعودی بادشاہ کے طور پر تاریخ میں ثبت کریں اور صرف ایک صورت میں وہ اپنے اس ہدف تک نہیں پہنچ سکیں گے؛ وہ یہ کہ مغربی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچیں کہ محمد بن سلمان کی حکمرانی ان کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہے، جس کے بعد ان کی دولت اور چالاکی کسی کام نہیں آئے گی۔
https://fa.alalam.ir/news/3837096
۔۔۔۔۔۔۔
لوفیگارو کی رپورٹ؛
بن سلمان کی ولیعہدی سے برخاستگی کے لئے بنی سعود کی حرکت پذیری
فرانسیسی اخبار لو فیگارو نے ریاض میں اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بنی سعود کے قبیلے کے اندر محمد بن سلمان کی ولیعہدی سے برطرفی کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔
فرانسیسی اخبار لو فیگاروں نے آج (جمعرات 18 اکتوبر 2018ع‍ کو) ایک خصوصی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ریاض میں، محمد بن سلمان کی ولیعہدی کے عہدے سے برخاستگی کی کوششیں شروع ہوچکی ہے۔
رپورٹ کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
- حالیہ چند دنوں میں "بیعت بورڈ" نے خاشقجی کے اغوا یا قتل نیز محمد بن سلمان کی پوزیشن کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کیا ہے۔
- اگر واشنگٹن میں سعودی سفیر "خالد بن سلمان" کو دوبارہ اسی مشن پر متعین نہ کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ انہیں فوری طور پر نائب ولیعہد کے طور پر متعین کیا جائے اور محمد بن سلمان کو درمیانی مدت میں برخاست کیا جائے۔
- سعودی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصلیٹ جنرل سے لاپتہ ہونے کے بعد، عالمی رد عمل بہت بہت وسیع ہوچکا ہے اور سعودیوں پر عالمی دباؤ میں زبردست اضافہ ہوا ہے، چنانچہ بیعت بورڈ ایک ایسا متبادل تلاش کررہی ہے جو محمد بن سلمان کے مستقبل کے سلسلے میں، بنی سعود کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدے اور کم از کم نقصان کا حامل ہو۔
ریاض میں ایک سعودی اہلکار نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
ادھر قبل ازیں امریکی اخبار "نیوریارک ٹائمز" نے رپورٹ دی تھی کہ خالد بن سلمان امریکہ پلٹ کر نہیں آئیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

http://fna.ir/bp31f4

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰