اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میں تحریک اتحاد امت کے زیر اہتمام عالمی یوم القدس کی مناسبت پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکردہ علمی شخصیت آیت اللہ استاد عابدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مظلوم کی حمایت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مظلوم کس رنگ و نسل یا قوم و ملک کا رہنے والا ہے۔ اسلام نے مظلوم کی حمایت کا حکم دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران دنیا بھر کے مظلوموں کا حامی ہے۔ استاد عابدی نے کہا کہ قبلہ اول کی حمایت میں اٹھنے والا ہر قدم عبادت ہے، اسلام کی تقویت کا باعث ہے اور دشمن کی شکست کا مقدمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطینی عوام کا اسرائیلی غاصب حکمران قتل عام کررہے ہیں وہ صہیونی درندگی اور سفاکیت کا ثبوت ہے۔ یہ لوگ انسان کہلانے کے لائق نہیں جو خواتین اور بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قتل عام کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور ملت مسلمہ کا عزم و ارادہ اس کمزور گھر کو تنکے کی مانند بہالے جائے گا۔
آیت اللہ عابدی نے یورپی یونین سے وابستہ ممالک کو مخاطب کرکے کہا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کے دعویدار فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے خاموش کیوں ہیں؟ کیا فلسطین اور کشمیر میں انسان نہیں بستے ہیں ؟ کیا ان لوگوں کے حقوق نہیں ہے ؟ ہمارا اللہ کی نصرت کے وعدے پر کامل ایمان ہے اور مظلوم ملتوں کا مستقبل روشن ہے اور ظلم کی یہ رات بہت جلد ختم ہوجائے گی۔
استاد عابدی نے کہا کہ شام و عراق میں داعش کی شکست کے بعد دشمن نے پاکستان کو نشانہ بنانے کی پلاننگ کی ہے اور داعش کو پاکستان کی سرحد پر اکٹھا کیا جارہا ہے، اس خونخوار دشمن کے مقابلے میں اسلامیہ جمہوریہ ایران پاکستانی حکومت اور ملت کے ساتھ کھڑا ہے۔
کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت میں نکلنے والے اس ریلی سے تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ راہنما ڈاکٹر سید عنایت اللہ اندرابی نے اپنے خطاب میں آیت اللہ خمینی کی بصیرت اور دور اندیشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قلب اسلام میں ایک خنجر کی مانند ہے اور امام خمینی نے اس شیطانی منصوبے سے امت کو آگاہ کیا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے عالم اسلام کو وحدت کی دعوت دی ہے۔ اسرائیل کا فلسفہ وجودی یہ ہے کہ امت کو تفرقے اور اختلاف کا شکار کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی قدرت کو پاش پاش کیا جائے۔
ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرے کریں تو فلسطین اور کشمیر کو آزاد کرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوم القدس ظلم کے خلاف انصاف کی آواز ہے اور امام خمینی کی آواز پر جس طرح ہر سال لاکھوں لوگ لبیک کہتے ہوئے اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اس سے استعماری طاقتیں خوفزدہ ہیں کیونکہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز ظالم کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا دعوی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو اب ہم پوچھتے ہیں کہ تم لوگ کب کشمیر اور فلسطین میں ہورہی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لو گے؟
ڈاکٹر اندرابی نے فلسطین کے حوالے سے مسلم ممالک کے حکمرانوں کے کردار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے بزدلانہ رویہ کی وجہ سے اسرائیل جیسے حقیر ممالک مسلمانوں کے قتل عام میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اب یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ ان بزدل حکمرانوں پر دباؤ ڈالے کہ عالمی سطح پر اس ظلم کے روک تھام کے لئے آواز اٹھائے۔
بلجیم کی دارالحکومت برسلز میں تحریک اتحاد امت کے زیر اہتمام نکلنے والی یوم القدس ریلی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور یورپی پارلیمنٹ کے سامنے فلسطینی اور کشمیری عوام کی حمایت میں نعرے لگائے۔
تحریک اتحاد امت کے یورپ میں راہنما مختار احمد بٹ نے اس ریلی کے انعقاد کے حوالے سے کہا کہ ہم اپنا اسلامی اور انسانی فریضہ ادا کرنے آئے ہیں اور انشا اللہ مظلوموں کی حمایت کا فریضہ ہمیشہ انجام دیتے رہیں گے۔
فلسطین اور کشمیر مظلومیت کی بڑی مثالیں ہیں اور یورپی یونین کے مرکز کے سامنے احتجاج کرکے ہم اس یونین کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان مسائل کی جانب توجہ دیں۔یہ بات افسوسناک ہے کہ حیوانوں اور جانوروں کے حقوق کا واویلا کرنے والے انسانوں کے درد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
مختار احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یورپی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم مستقبل میں بڑی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بشکریہ خیبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲