1 اپریل 2018 - 17:30
حسین شریعتمداری: دعا کریں کہ بن سلمان امریکی ہتھیار اپنی تحویل میں لینے تک زندہ رہیں

حسین شریعتمداری: دعا کریں کہ بن سلمان امریکی ہتھیار اپنی تحویل میں لینے تک زندہ رہیں؛ کیونکہ یہ اسلحہ بالآخر محاذ مزاحمت کو ہی ملے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محمد بن سلمان نے فارس نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں اگلے ایک یا ڈیڑھ عشرے میں ایران ـ سعودی جنگ کے امکان کے حوالے سے محمد بن سلمان کے اظہار خیال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 10 یا 15 سال کی شرط اس لئے ہے کہ امریکہ کو آل سعود کا دودھ دوہنے کی پوری پوری فرصت دی جائے۔
روزنامہ کیہان کے ایڈیٹر انچیف نے کہا: امریکہ اور یورپ کو جلدی ہے کہ بن سلمان ایران کا مقابلہ کرنے کے بہانے ان سے کئی کئی سو ارب ڈالر کا اسلحہ خرید لیں جبکہ سعودی قبیلہ اس وقت یمن کے بھنور میں پھنسا ہؤ‎ا ہے؛ وہی جنگ جس کو ایک ہفتے میں اختتام پذیر ہونا تھا لیکن اس کا چوتھا سال بھی شروع ہوچکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سعودیوں کو اتنا اسلحہ کس لئے چاہئے جبکہ وہ انصاراللہ کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہے یہ قبیلہ ایران کی فوجی قوت کا مقابلہ کرنے کا تصور کیونکر کرسکتا ہے؟ کیا سعودی شہزادہ نہیں جانتا کہ اگر امریکہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے لیکن اگر وہ ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تو چالیس سال کے عرصے کو ضائع نہ کرتا اور کب کا ایران پر حملہ کرچکا ہوتا؟
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے غم و غصے کے اظہار کے ضمن میں ایک اعتراف بھی کیا ہے اور وہ یہ کہ "ہم نے مغربی ایشیا میں سات ٹریلین [سات ہزار ارب] ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن ہمیں اس کے بدلے کچھ بھی نہیں ملا ہے" اور سعودی عرب کو سینکڑوں ارب ڈالر کا ہتھیاروں کی فروخت ـ امریکی دعؤوں اور بن سلمان کی دور کی سوجھیوں کے برعکس،ـ سعودی عسکری ضروریات کی تکمیل کے لئے نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کے دیوالیہ پن کا چارہ کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان کی دیوالیہ معیشت کو سعودی پٹروڈالرز کے سہارے کی ضرورت ہے۔
شریعتمداری کا کہنا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز پر آل سعود نامی قبیلے کو اپنی قرون وسطائی حکمرانی جاری رکھنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے؛ چنانچہ محمد بن سلمان نے سعودی حکمرانی کو علمانیت (سیکولرزم) کی طرف دھکیل دیا ہے، سعودی شہزادوں کو برخاست کیا ہے، یمن کی جنگ میں خفت آمیز شکست کھا چکی ہے، قدس پر قابض غاصب اور جعلی اسرائیلی ریاست کے ساتھ اپنے رابطے عیاں کرچکی ہے، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ سینکڑوں ارب ڈالر کے سودے طے  کرچکی ہے، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اور ان سارے واقعات سے آل سعود کے قریبی زوال کے امکان کو تقویت پہنچی ہے۔ چنانچہ نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ امریکہ ـ جس کو سعودی حاکمیت کی شکست و ریخت کا اندازہ ہو ہی چکا ہے ـ سعودیوں کے زوال کے اپنے انتظام کے ساتھ اگے بڑھانا چاہتا ہے، اور یہ 10 سے 15 سال کا عرصہ جو امریکہ نے بن سلمان کی زبان پر جاری کردیا ہے، وہی عرصہ ہے جو امریکہ نے آل سعود کے زوال کے لئے معین کیا ہے۔
انھوں نے آٹھ سالہ جنگ کے دوران امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کی طرف اشارہ کیا اور کہا: امام خمینی (رح) نے مغربی ممالک کی طرف سے صدام کو فراہم کئے جانے والے ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: "۔۔۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ہمیں ڈرا دیتے ہیں کہ بطور مثال صدام کے ٹینکوں کی تعدا میں اضافہ ہؤا ہے، اس کے ہتھیاروں کی مقدار بڑھ گئی ہے، یہ سچ ہے، ان ہتھیاروں میں اضافہ ہوچکا ہے، اور میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ یہ ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے، کیونکہ ہمارے نوجوان ان سے یہ ہتھیار لیں گے اپنے لئے"۔
انھوں نے کہا: امام کی یہ پیشنگوئی بھی ان کی دوسری پیشنگوئیوں کی طرح عمل میں ثابت ہوچکی ہے۔
شریعتمداری نے کہا: امام سجاد علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے امت مسلمہ کے دشمنوں کو احمقوں میں سے قربا دیا ہے، چنانچہ ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ بن سلمان امریکی ہتھیار اپنی تحویل میں لینے تک جیتے رہیں، کیونکہ ان ہتھیاروں کو محاذ مزاحمت کے ہاتھ لگنا ہے اور اس وقت تک ان کا سایہ سعودی عرب پر قائم رہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110