6 مارچ 2018 - 17:08
“یہودی ملک و ملت ” قانون کی منظوری، عرب مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ہے: اسرائیلی اخبار

مقبوضہ فلسطین سے چھپنے والے اخبار ہاآرتض نے صہیونی رژیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ “یہودی ملک و ملت” کا قانون تعصب، نفرت اور امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور اس نے ڈیموکریسی کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، مقبوضہ فلسطین سے چھپنے والے اخبار ہاآرتض نے “یہودی ملک و ملت” کے قوانین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے ذریعے مقبوضہ اراضی سے عربی زبان کو ہٹا کر عبرانی زبان کو سرکاری زبان قرار دینا، مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کو ممنوع قرار دینا اور اسرائیل کو صرف یہودی شہریوں کا ملک قرار دینا جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
ہاآرتض نے اس قانون کو تعصب پسندانہ اور متعصبانہ قانون گردانتے ہوئے لکھا ہے کہ اس قانون سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہودی اقدار جمہوری اقدار پر برتری رکھتے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ اسرائیل نے اپنے وجود کے آغاز پر یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ یہودی اور غیر یہودی شہریوں کو مساوی نگاہ سے دیکھے گا۔
واضح رہے کہ “یہودی ملک و قوم” کے قانون کا پہلا ورژن 10 مئی 2017 کو اسرائیل کی حاکم پارٹی لیکوڈ نے کینیسٹ میں پیش کیا تھا جسے 48 موافق ور 41 مخالف آراء کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔
اس قانون کے نہائی مرحلے کی منظوری کی صورت میں، اسرائیل صرف یہودی عوام کا ملک ہو گا اور مقبوضہ فلسطین میں عبرانی زبان کو سرکاری زبان حتی تعلیم و تعلم کی زبان کا پہلا درجہ دیا جائے گا اور مساجد سے اذان کی آواز کے بلند کئے جانے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲