اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کے عرب سلاطین و حکام، اسرائیل کے ساتھ ایرانی دشمنی کے مشترکہ موقف پر اس قدر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں کہ آج سے ۱۰ سال پہلے تک یہ قربت خود نیتن یاہو کے لئے ناقابل یقین تھی ۔
فارس نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی مانٹرینگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق ، سوئزر لینڈ کے شہر ڈیوس (Davos) میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم World Economic Forum) ( کے حاشیہ پر سی ان ان ٹی وی کے اینکر و رپورٹر فرید زکریا نے اسرائیلی وزیر اعظم نے گفتگو کی ۔ گفتگو کے آغاز میں پروگرام کے ناظم نے شہر ڈیوس میں نیتن یاہو کی امریکی صدر ٹرامپ سے ہونے والی گفتگو کے سلسلہ سے بات چیت کی اور یہ سوال اٹھایا کہ : ٹرامپ نے کہا ہے کہ اب وہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں دی جانے والی رعایت کو آگے کے لئے منظور نہیں کریں گے اور اس کا مطلب ٹرامپ کا یہ اقدام امریکہ کے ایران کے ساتھ بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ،) ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action ( سے ایک طرفہ طور پر خارج ہونے کے مترادف ہو سکتا ہے جسکے چلتے شاید ایران بھی ایٹمی اسلحہ بنانے کے لئَے یورینیم کی افزودگی کی اسی راہ پر گامزن ہوچلے جس پر پہلے تھا تو کیا یہ بات اسرائیل کے لئے نا مطلوب نہ ہوگی ؟
نیتن یاہو نے جواب دیا : ہرگز نہیں ، میری نظر میں موجودہ معاہدہ عمیق مشکلوں کا حامل ہے اور ایران کو اسلحوں کی ساخت کے لئے یورینیم کی افزودگی کاحق دیتا ہے ، یہ جوہری معاہدہ محض اسلحوں کی ساخت کےسلسلہ سے ایک ٹائم لائن معین کر رہا ہے مثلا آئندہ کے ۸ سے ۱۰ سال تک کی مدت میں ایران اپنا کام کر سکتا ہے ۔
سی ان ان کے رپورٹر نے سوال کیا : کیا یہ اسرائیل کے لئے بہتر نہ ہوگا کہ یہ کام{ جوہری اسلحوں کی ساخت } ایک مہینہ کے اندر نہ ہو کر ۱۵ سال تک کھنچ جائَے ؟
اسرائیلی وزیر اعظم نے جواب دیا : نہیں وہ آج اور اب بھی ایک ایٹمی بم بنانے کے لئے مطلوبہ یورنیم کی افزودگی کر سکتے ہیں جبکہ جوہری معاہدہ کے تحت انہیں یہ فرصت نصیب ہوگی کہ وہ ۲۰۰ ایٹمی بم بنانے کے لئے یورینم کی لازم مقدار کو مہیہ کر سکیں اور یوں مختصر سی مدت میں بین الاقوامی معاہدوں کی مخالفت کے بغیرافزودہ یورینم کو ایٹمی اسلحوں میں تبدیل کر لیں ، ایران ان اسلحوں کو استعمال میں بھی لا سکتا ہے حتی علاقے میں اپنے ان ہم نواوں کو بھی دے سکتا ہے جو اسکی نیابت کر رہے ہیں ۔
نیتن یاہو نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا ہمارے لئے بالکل بھی اہم نہیں ہے کہ اس معاہدہ کی تجدید و اصلاح ہو، جوں کا توں رہے یا مکمل طور پر کالعدم ہو جائے ہمار ے لئے جو بات اہم ہے وہ یہ کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے چونکہ وہ علانیہ کہتا آیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ملیا میٹ کرنے کے لئے جوہری ہتھیار یا ہر قسم کے ہتھیاروں کو استعمال کرے گا ۔
فرید زکریا نے پوچھا: یورپین رہبروں سے ملاقات میں آپ نے کیا پایا ؟ وہ لوگ ایران کے جوہری معاہدہ کے سلسلہ سے کیا نظر رکھتے ہیں ؟ کیا جس طرح وہ میڈیا میں کہتے ہیں اسی طرح ،) ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action کی حمایت کرتے ہیں ؟
اس مقام پر نیتن یاہو نے جواب دینے سے پلڑا جھاڑتے ہوئے کہا: میں جو ان یورپین سے کہتا ہوں وہی آپ سے کہہ رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک برے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اب اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ وہ مجبور ہیں اس برے معاہدہ کے پابند رہیں تاریخ میں ایسے بہت سے نمونے ہیں جس میں کسی معاہدہ کو انجام دے کر اسکی پابندی کی بنیاد پر سوائے حسرت کے کچھ اور حاصل نہ ہو سکا جیسا کہ وہ معاہدہ جو شمالی کوریا کو جوہری توانائی سے روکنے کے لئے کیا گیا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اس نے ایٹمی طاقت حاصل کر لی ۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا : ایران کی جانچ اور نگرانی بھی ناقص و مشکل کا شکار ہے چونکہ ایران کا کہنا ہے آپ ہماری عسکری سائٹس کو نہیں دیکھ سکتے ،ہم جانتے ہیں کہ ایران تیزی کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار کی طرف نہیں جائے گا اس لئَے کہ نہیں چاہتا اس پر اسکے اقتصاد کو مفلوج کر دینے والی پابندیاں دوبارہ عائد ہوں ،اس مقام پر عربی ممالک کہ البتہ میں انکا یہاں نام نہیں لونگا ایران کے سلسلہ سے اسرائیل کے موقف کے حامی ہیں ۔
پروگرام کے اینکر نے کہا: ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائِیل موجودہ حالات میں سعودی عرب و مصر کے ساتھ ہر دور سے زیادہ حیاتی اتحاد کی طرف گامزن ہے اور ایران مخالف اتحاد علاقے کی پالیسی کے اہم اجزاء کی صورت تبدیل ہو کر سامنے آ رہا ہے ۔
نیتن یاہو نے اس بات کی تائِید کرتے ہوئَے کہا : میں اس بات سے متفق ہوں کہ اسرائیل و مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے درمیان ایک قسم کی مشترکہ یک جہتی و ہم نوائی وجود میں آئی ہے ایک ایسی ہم نوائی جو آج سے ۱۰ سال پہلے تک ناقابل تصور تھی اور میں جو کہ اسرائیل کے وجود کے برابر عمر کا حامل ہوں میں نے اپنی پوری عمر میں ہر گز اسی قسم کی باہمی وحدت کا مشاہدہ نہیں کیا تھا ۔ یہ باہمی یکجہتی مشترکہ دشمن کی دین ہے یعنی شدت پسندانہ اسلام اور داعش اور انکے مقابل ہمارے مشترکہ موقف کی بنیاد پر یہ باہمی یک جہتی وجود میں آئی اور اس یکجہتی کا ایک اور سرچشمہ ان ممالک کا اسرائیل کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی خواہش ہے۔
نیتن یاہو نے ٹرامپ کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی رژیم کا پایتخت تسلیم کئے جانے کو قانونی حیثیت دینے کے حالیہ اقدام کے سلسلہ سے بھی بات کی اور اپنے پرانے دعووں کی تکرار کرتے ہوئے کہا کہ قدس ۳ ہزار سال پہلے {جناب داود کے دور سے } یہودیوں کا پایتخت رہا ہے اور ٹرامپ نے اسکی تاریخ کو رسمیت بخشتے ہوئَے ایک تاریخی اقدام کیا ہے، صہیونی وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے صلح کا کوئی بھی معاہدہ کیوں نہ ہو لیکن قدس اسرائیل کا پایتخت رہے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲