اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ یوم رحلت رسولؐ اور حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حسب عمل قدیم وادی کے طول و عرض میں خصوصی مجالس عزاء کا انعقاد کیا گیا۔
اس سلسلے کے سب سے بڑے اجتماع مرکزی امام باڑہ بڈگام اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں منعقد ہوئے جہاں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی تاہم انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی خانہ نظر بندی کے باعث مجالس میں شرکت کرنے اور منصبی فرائض انجام دینے سے قاصر رہے۔
آغا حسن کی غیر موجودگی میں امام باڑہ بڈگام میں حجۃالاسلام آغا سید عقیل الموسوی اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں حجۃ الاسلام آغا سید عابد الحسینی نے وعظ و تبلیغ کے فرائض انجام دئے۔
مجالس کے دوران عقیدت مندوں نے آغا حسن کی خانہ نظر بندی کے خلاف احتجاج کیا۔
انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان کے مطابق پولیس نے 18 نومبر کو علی الصبح آغا حسن کی رہائش گاہ پر آکر موصوف کو گھر میں خانہ نظر بند کیا۔
ترجمان نے یوم رحلت رسولؐ اور یوم شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑ کے عین موقعہ پر تنظیم کے سربراہ آغا حسن کی بلا جواز خانہ نظر بندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ متبرک ایام کے مواقع پر دینی رہنماؤں کو نظر بند کرکے انہیں ناگزیر دینی فرائض کی ادائیگی سے روک کر مداخلت فی الدین کا مرتکب ہورہی ہے۔
17 نومبر کو امام باڑہ یاگی پورہ ماگام میں یوم رحلت رسولؐ اور یوم شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑ کی مناسبت سے منعقدہ عظیم الشان مجلس حسینیؑ سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے نبی اکرمؐ کی رحلت جان گداز کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرمؐ کا وجود مقدس سراپا نور ہے اور یہی نور تخلیق کائنات اور موت و حیات کا بنیادی منبع ہے۔
حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ کے واقعہ شہادت بیان کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ حضورِ اکرمؐ کے سبطِ اکبر سیدنا حضرت امام حسنؑ تاریخ اسلام کی ایسی مظلوم ترین برگزیدہ شخصیت ہیں جنہیں زمانے کے شاطر ترین عناصر کی فتنہ انگیزیوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔آپؑ نے زندگی بھر انتہائی دلخراش اور حوصلہ شکن حالات کا سامنا کیا لیکن اپنے نانا رسول اکرمؐ کی سیرت اور کردار و عمل کے تحفظ کے تقاضوں سے چشم پوشی اختیار نہیں کی۔آپؑ نے ہر قسم کے مصائب برداشت کئے لیکن امت مسلمہ کے آپسی اتحاد و اخوت پر کوئی آنچ آنے نہیں دی۔
اس موقعہ پر آغا حسن نے LOC پر متواتر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں دونوں طرف ہورہے جانی اور مالی نقصان پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال دونوں اطراف کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان باہمی رنجش و رویاتی رقابت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
تنظیم کے جن مرکزی ذاکرین کرام نے مجالس میں مرثیہ خوانی کی ان میں ذاکر مصطفی علی،سید یوسف، علی محمد نجار، سید فردوس، سید طاہر حسین موسوی، غلام محمدحاجی، غلام محمد درگنڈ،نثار حسین بٹ، تصدق حسین، علی محمد راتھر،سید اعجاز کاظمی اور سید اشرف ڈب وغیرہ شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲