8 نومبر 2017 - 15:54
ایران اور پاکستان مشترکہ سرحدوں میں دفاعی اور سیکورٹی فورسز بڑھانا چاہیئے: ایرانی کمانڈر

نائب ایرانی مسلح افواج برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں میں جلد سے دفاعی اور سیکورٹی فورسز بڑھانا ناگزیر ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نائب ایرانی مسلح افواج برائے بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں میں جلد سے دفاعی اور سیکورٹی فورسز بڑھانا ناگزیر ہیں.

يہ بات ميجر جنرل 'غدير نظامي پور' نے منگل كے روز پاكستاني فوج كے ترجمان جنرل 'آصف غفور' كے ساتھ ايك پريس كانفرنس ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے پاكستاني سپہ سالار جنرل 'قمر جاويد باجوہ' كے دورے ايران كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ دونوں ممالك كے درميان تاريخي، ثقافتي اور جغرافيائي مشتركات كي بنا پر دوطرفہ تعلقات كي مزيد مضبوطي لازمي ہے.

جنرل نظامي پور نے كہا كہ جنرل باجوہ اور ان كے ايراني ہم منصب اور دوسرے اعلي حكام نے علاقے اور دنيا كي سياسي اور سيكورٹي صورتحال كا جائزہ لينا، دوطرفہ فوجي تعاون كو فروغ دينا اور مشتركہ سرحدوں كي سلامتي كي مضبوطي پر تبادلہ خيال كيا.

انہوں نے مزيد كہا كہ ہم نے اپنے پاكستاني ہم منصبوں كے ساتھ پوري دنيا اور علاقے كا اصلي خطرہ دہشتگردي، انتہاپسندي، قوموں كے درميان تنازعات، علاقے اور اسلامي دنيا ميں مغربي ممالك كي مداخلت اور خطي ممالك كي تقسيم كي سازشوں سے مقابلہ كرنے پر مذاكرات كيا.

انہوں نے كہا كہ اس مذاكرات كے دوران ہم نے دہشتگردي اور انتہاپسندي سے مقابلہ كرنے كے لئے موجودہ صلاحيتوں سے استعمال كرنا، عراق اور شام ميں ان كي شكست، استحكام اور سيكورٹي كي بحالي پر زور ديا.

ايراني كمانڈر نے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، پاكستان اور دوسرے اسلامي ممالك اپنے تجربات اور صلاحيتوں كے ذريعہ عراق اور شام ميں ہونے والے تنازعات كو روك كر سكتے ہيں.

انہوں نے بتايا كہ دہشتگردي سے مقابلہ كرنے كے حوالے سے بعض عالمي طاقتوں پر بھروسہ كرنا ايك غلطي رويہ ہے كيونكہ تكفيري دہشتگردي، انتہاپسندي اور علاقائي ممالك كي تقسيم امريكہ اور ناجائز صہيوني رياست كي سازشوں ميں سے ايك ہيں.

ايراني ميجر جنرل نے كہا كہ اس ملاقاتوں ميں دونوں فوجي حكام نے مسلح افواج كے درميان تعليمي، تحقيقي،بحريہ فورسز، مشتركہ مشقوں كا انعقاد، تجربات كے تبادلے اور عوامي فورسز سے استعمال كرنے كے باہمي معاہدوں پر دستخط كر دئے ہيں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲