30 اکتوبر 2017 - 17:54
جنوبی ایشیاء میں کوئی بھی اقدام ایران کے بغیر انجام نہیں پا سکتا: جنرل باقری

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر وہی پابندیاں کسی اور بہانے سے پھر لگا دیں گئیں تو ایران کا معاہدے سے نکلنا یقینی ہوگا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے شہری دفاع سے متعلق کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے جنگ کے اختتام پر انتہائی اہم پیغام میں کہا تھا کہ جنگ کے دوران ہمہ جہت دفاعی پالیسی کا وجود نہیں تھا لیکن اب ہمارے پاس فرصت ہے کہ ہمہ جہت دفاعی پالیسی وضع کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم مسئلہ ھمہ جہت دفاع میں شہری دفاع کی تکمیل تھی جس سے ملک کو بہت فائدہ اور اس کے ذریعے دھمکیوں سے نپٹنا آسان تھا۔

جنرل باقری نے مزید کہا کہ شہری دفاع کے اہم ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ خطرات کی پہچان ہے۔

انہوں نے تاکید کی اس امر سے غافل نہیں ہونا چاہیے کہ تمام خطرات کے باوجود ملک میں سیکورٹی گزشتہ دور کے ساتھ قابل مقائسہ نہیں ہے اور ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود انقلاب اسلامی ترقی کی طرف گامزن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ جنوبی ایشیاء میں کوئی بھی اقدام ایران کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔

باقری نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کی ترقی کے ساتھ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں اور دور حاضر میں دو بڑے خطرے انقلاب اسلامی کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ تکفیری دہشتگردوں کا تھا، اس کی حقیقت یہ ہے کہ عالمی استکباری قوتیں اس پر کئی سالوں سے کام کر رہی ہیں کہ کس طرح مسلمانوں کے ایک جوان طبقے کو ان علاقوں کو نقصان پہچانے کے لیے مزاحمت پر آمادہ کریں جو صہیونی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ استکباری قوتوں کے اس طرح کام کرنے کا نتیجہ داعش اور النصرہ کے محاذ کی صورت میں نکلا کہ جنہوں نے 6سال سے زائد عرصے تک شام اور 3 سال تک عراق کو جنگ میں الجھائے رکھا اور یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہےکہ ایک ملک کے بڑے حصے کو جنگ کی آماجگاہ بنایا جائے۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری نے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے امریکی بدعہدیوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہی پابندیاں کسی اور بہانے سے پھر لگا دیں گئیں تو ایران کا معاہدے سے نکلنا یقینی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲