20 اکتوبر 2017 - 09:00
ٹرمپ نے اعتراف کرلیا/ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کے فنی معاملات کی پوری طرح سے پابندی کی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کے فنی معاملات کی پوری طرح سے پابندی کی ہے۔ انہوں نےساتھ ہی ایران کے خلاف اپنے بے بنیاد دعووں کو ایک بار پھر دوہرایا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ دنیا کے چند ایک اسرائیل نواز لیڈروں چھوڑ کر سبھی عالمی رہنماؤں نے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے موقف کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی ٹوئیٹر پیج پر لکھا ہے کہ تہران جامع ایٹمی معاہدے کے فنی دائر کار کا پابند رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسی کے ساتھ یہ بھی دعوی کیا کہ بقول ان کے ایران نے جامع ایٹمی معاہدے میں درج دوسرے معاملات پر عملدرآمد سے پہلو تہی کی ہے۔ دوسری جانب امریکی نیوز سائٹ انٹرسیپٹ نے انکشاف کیا ہے کہ انتہا پسند امریکی سینیٹر ٹام کاٹن ایران مخالف اقدامات کے سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ مذکورہ ویب سائٹ نے ایران کے بارے میں ٹام کاٹن کے انتہا پسندانہ نظریات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے دور حکومت کا انتہائی خطرناک سینیٹر قرار دیا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ٹام کاٹن کانگریس میں ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو ختم کرانے کی غرض سے کی جانے والی کوششوں میں پیش پیش رہے ہیں اور ایران کے خلاف سخت ترین پابندیوں کا مطالبہ حتی کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کا بھی مطالبہ کرچکے ہیں۔دوسری جانب امریکہ کے سابق انٹیلی جینس چیف جان برینن نے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے واشنگٹن کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔سی آئی اے کے سابق سربراہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، افسوسناک حدتک جاہلانہ اور یا پھر جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔اسی دوران امریکہ کے سابق وزیر جنگ نے بھی یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ موجودہ امریکی صدر کو نہ توعالمی حقائق و واقعات کا کوئی علم ہے اور نہ ہی وہ امریکہ کی اندرونی اور بیرونی مشکلات اور خطرات سے واقف ہیں۔لیون پنیٹا نے کہا کہ ٹرمپ کے ٹوئیٹ پیغامات، نظریات اور موقف کے بارے میں سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔وائٹ ہاوس کے اٹھارہ مشیروں اور عہدیداروں نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو غیر متوازن شخص قرار دیا ہے۔ادھر بریسلز میں یورپی یونین کا سربراہی اجلاس شروع ہوگیا ہے جس میں اہم ترین عالمی معاملات پر غور و خوص کیا جائے گا۔ایران کا ایٹمی معاہدہ اور اس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا موقف، اٹھائیس یورپی سربراہوں کے اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔اب سے تین روز قبل یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے لکسمبرگ اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

.......

/169