10 اکتوبر 2017 - 13:04
شام میں امریکہ کی جانب سے تکفیری دہشتگردوں کی حمایت کا سلسلہ جاری

شام میں امریکہ کی جانب سے تکفیری دہشتگردوں کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق  شامی فوج کے آپریشنل کمان کے سربراہ جنرل علی العلی نے کہا ہے کہ امریکہ، گذشتہ تین مہینوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بہانے جبہت النصرہ اور داعش دہشتگرد گروہوں کے لئے اسلحوں اور جنگی ساز و سامان کی کم سے کم ایک ہزار چار سو اکیس کھیپیں روانہ کر چکا ہے۔

ایسی متعدد رپورٹیں بھی ملتی رہی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کے حمایت یافتہ شامی حکومت کے مخالفین نے امریکہ سے ملنے والے فوجی ساز و سامان داعش کو دیئے ہیں۔

شام میں امریکہ کے جارحانہ اقدامات صرف دہشتگردوں کو اسلحوں کی سپلائی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ وہ داعش کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے شام میں خودسرانہ طریقے سے براہ راست فوجی کارروائیاں بھی انجام دیتا رہا ہے اور اس نے مختلف طریقوں سے اس ملک کی ارضی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔

شام میں داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد کے خودسرانہ اقدامات کے نتیجے میں بے گناہ عوام مارے جا رہے ہیں اور اس ملک کی بنیادی تنصیبات تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔

گذشتہ ہفتوں میں امریکی حکام کے موقف نے یہ بخوبی واضح کر دیا ہے کہ وہ بحران شام کے حل خاص طور سے قزاقستان میں آستانہ مذاکرات میں تعاون کیوں نہیں کرنا چاہتے۔ بحران شام کے سلسلے میں امریکی اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد، شامی حکومت اور فوج کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس سلسلے میں امریکہ نے دہشتگردوں کی اچھے اور برے میں تقسیم جیسے عوام کو دھوکا دینے والے اقدامات کرکے مختلف ملکوں میں خود غرضی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام میں دہشتگردوں کی نابودی کے عمل میں تیزی نے امریکی حکام سمیت ان کے دیگر حامیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور انھوں نے اپنے ایجنٹوں کو بچانے کی بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔

شام میں دہشتگردوں کو مضبوط بنانے کے لئے امریکی اقدامات خاص طور سے بڑے پیمانے پر فوجی مدد بھیجنے کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

.......

/169