29 اگست 2017 - 18:21
 سلامتي کونسل کي قرارداد کي خلاف ورزي نہيں کي جاسکتي: سابق رکن پارليمنٹ

ايراني پارليمنٹ اور جوہري معاہدے کي نگران کميٹي کے سابق رکن کا کہنا ہے کہ سلامتي کونسل کي قرارداد 2231 کي اصل شرط يہ تھي کہ ايران کے پُرامن جوہري پروگرام کے خلاف بنائے مقدمات کا خاتمہ کيا جائے لہذا دوسرا فريق اب اس قرارداد کي خلاف ورزي نہيں کرسکتا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايراني پارليمنٹ اور جوہري معاہدے کي نگران کميٹي کے سابق رکن کا کہنا ہے کہ سلامتي کونسل کي قرارداد 2231 کي اصل شرط يہ تھي کہ ايران کے پُرامن جوہري پروگرام کے خلاف بنائے مقدمات کا خاتمہ کيا جائے لہذا دوسرا فريق اب اس قرارداد کي خلاف ورزي نہيں کرسکتا.

'عباس علي منصوري آراني' نے اقوام متحدہ ميں تعينات امريکي نمائندہ اور اقوامِ متحدہ کي جوہري توانائي ايجنسي کے سربراہ 'يوکيا امانو' کے درميان حاليہ ملاقات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ بے شک ايران نے جوہري معاہدے کے تناظر ميں اقوامِ متحدہ کي جوہري توانائي ايجنسي کے ساتھ وسيع پيمانے پر تعاون کيا ہے اور اقوامِ متحدہ کي جوہري توانائي ايجنسي کے سربراہ کي جانب سے ايران کے جوہري پروگرام کے خاتمہ سے يہ بات ظاہر ہوتي ہے کہ ايران نے اب تک اقوامِ متحدہ کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کيا ہے.

انہوں نے کہا کہ غير ملکي ممالک، ہرگز ہمارے ملک کي سلامتي اور دوسرے سيکورٹي مسائل کے ليے فيصلہ نہيں کر سکتے ہيں اور جوہري معاہدے سے قبل سے بھي ہماري ريڈ لائنوں اور اصولوں ميں اضافہ ہوا ہے اور اگر ہم سيکورٹي، فوجي اور دفاعي مسائل کے بارے ميں بتانا چاہيں تو ہم امريکہ اور بہت سے ديگر ممالک کے بارے ميں بات کر سکتے ہيں.

انہوں نے کہا کہ يقيني طور پر اقوام متحدہ ميں ايران کا پُرامن جوہري پروگرام اور فوجي کيس، بند کرديا گيا ہے پھر ہميں ايسے موضوعات پر بات چيت کرنے سے ملک کي سيکورٹي پر نقصان نہيں پہنچانا چاہيے.

انہوں نے کہا کہ سيکورٹي اور فوجي مسائل بالکل ايک اندروني معاملہ ہے اور امريکہ کي جانب سے ايسے موضوعات کا بيان صرف ايک نفسياتي جنگ کے قيام کے ليے ہے اور حقيقت ميں ايک سياسي خطرناک کھيل ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲