اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شمالی یونان کے مفتی اعظم 'حافظ جمالی' نے دہشت گرد گروہوں کے غیر انسانی اعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عالم اسلام کی قلب و روح پر نقصان پہنچا رہے ہیں اور حقیقت میں یہ آج عالم اسلام کا اہم مسئلہ ہیں.
حافظ جمالي نے اسلامي ممالك ميں دہشت گرد گروہوں كے وحشيانہ اقدامات كا ذكر كرتے ہوئے بتايا كہ آج امت مسلمہ كے اہم مسائل ميں سے ايك دہشت گردوں کا مسئلہ ہے جو اسلام كے مقدس نام پر نقصان پہنچانے كے ساتھ ساتھ اسلام كے حقيقي چہرہ كو مسخ كر كے بد صورت ديكھا رہے ہيں.
انہوں نے كہا كہ مسلم مذہبي رہنما ديكھ رہے ہيں كہ دہشت گرد، اسلام كے نام كے پر شام، عراق، لبنان، فلسطين سميت پورپي ممالك كے شہريوں كے خلاف ايسے بھيانك اور انسانيت كے خلاف اقدامات كر رہے ہيں اور اسلام كو بدنام كر رہے ہيں.
انہوں نے كہا كہ امام خميني(رح) نے ہميشہ قرآن كريم كي تعليمات پر مبني امت مسلمہ كے اتحاد اور يكجہتي پر زور ديا ہے كيونكہ تنازعات اور اختلافات كو دور كرنے سے دنيا اور امت مسلمہ كے درميان امن اور سلامتي كا قيام يقيني ہو گا.
انہوں نے كہا كہ بدقسمتي سے، اسلام كے دشمنوں كي سازشيں، اسلامي دنيا كے اتحاد كے قيام كے ليے بڑي ركاوٹ ہيں.
انہوں نے بتايا كہ ہميں يقين ہے كہ عالم اسلام كو ديني بھائيوں كي حيثيت سے ہميشہ ايك دوسرے كے ساتھ شانہ بہ شانہ كھڑا ہونا چاہئے اور ان كے درميان اتحاد، قرآن اور حضرت محمد (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) كي تعليمات ميں سے ايك ہے.
يونان ميں تعينات اسلامي جمہوريہ ايران كے ثقافتي اتاشي ڈاكٹر'علي محمد حلمي' نے كہا كہ بدقسمتي سے، حاليہ سالوں كے دوران اسلامي ممالك دہشتگردوں كے ہولناك جرائم كا شكار ہے اور اسلام فوبيا كے مقصد سے ايسي مجرمانہ كارروائيوں كا ارتكاب كررہے ہيں جبكہ اسلام رحمت، امن و سلامتي، بھائي چارے اور احترام كا دين ہے.
انہوں نے دہشتگردي اور انتہاپسندي كے خاتمے كے ليے مختلف ممالك كے مذہبي علما كے باہمي تعاون پر زور ديتے ہوئے بتايا كہ بدقسمتي سے خطے كے كچھ عرب ممالك دہشتگردوں كو مالي اور فوجي امداد دے رہے ہيں.
انہوں نے كہا تمام الہامي اديان كے پيروكارامن اور پرامن بقائے باہمي كے خواہاں ہيں تو امن كے قيام كے ليے مذہبي علما كو باہمي بات چيت كرني چاہيے اور ہم اس كا خير مقدم كرتے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲