28 جون 2017 - 17:52
پارا چنار پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر دہشتگرادانہ حملوں کی مذمت

آغا صاحب نے کہا کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستان کی شیعہ برادری نے ہر قسم کے حالات میں حب الوطنی اور امن پسندی کی ایک مثال قائم کر رکھی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/پاراچنار پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر بدترین دہشتگردانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ، سینئر حریت رہنما اور جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیر کے سرپرست اعلیٰ آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے ان دہشتگرانہ حملوں میں شہید ہوئے افراد کو عقیدت کا خراج نذر کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ آغا صاحب نے کہا کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستان کی شیعہ برادری نے ہر قسم کے حالات میں حب الوطنی اور امن پسندی کی ایک مثال قائم کر رکھی ہے۔ حکومتی عدم توجہی اور مسلکی انتہا پسندی کی بدترین مار جھیلنے کے باوجود شیعیان پاکستان نے اپنی حب الوطنی پر کوئی حرف آنے نہیں دیا۔ اس مسلمہ حقیقت کے باوجود حکومت پاکستان وہاں کی شیعہ برادری کو کوئی تحفظ فراہم نہ کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ شیعیان پاکستان کی یہ حالت زار قائد اعظم محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان کے سراسر منافی ہے۔ آغا صاحب نے کہا کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں دہشتگرد تنظیمیں شیعہ مسلمانوں کو اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل ہونے کیلئے واضح دھمکیاں دے رہی ہیں، اور حکومت پاکستان اس حب الوطن برادری کے تحفظ کیلئے کسی موثر حکمت عملی سے قاصر نظر آرہی ہے۔ آغا صاحب نے امید ظاہر کی کہ پارہ چنار سانحہ کے بعد حکومت پاکستان شیعہ برادری کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام کرے گی۔ حزب المجاہدین کے سالار اعلیٰ سید صلاح الدین کو امریکی حکومت کی طرف سے عالمی دہشتگردوں کی لیسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اپنے پیدائشی حق اور تسلیم شد ہ حق خود ارادیت کی جدوجہد کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دینا حق و حقیقت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور ظلم وبربریت کانتیجہ ہے کہ کشمیری نوجوان مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ آغا صاحب نے کہا کہ امریکہ اسرائیلی تسلط اور بربریت کے خلاف جدوجہد کرنے والی مزاحمتی جماعت انصاراللہ ، حزب اللہ اور حماس کوبھی دہشتگرد قرار دے چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے امریکی فیصلوں سے مظلوم اقوام کی جدوجہد پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲