اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نامور ایرانی سفارتکار اور خارجہ پالیسی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ بعض علاقائی حکومتیں بالخصوص سعودی عرب خطے میں اپنے عزائم کے حصول کے لئے دہشتگرد تنظیموں کو آلہ کار کے طور ہر استعمال کررہے ہیں.
ان خیالات کا اظہار اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی اسٹریٹیجک کونسل کے چیئرمین 'کمال خرازی' نے چینی دارالحکومت بیجنگ میں بدھ کے روز ایشیا میں رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں کانفرنس (CICA) کے رکن ممالک کے اداروں کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بعض علاقائی ممالک کے علاوہ مغرب بالخصوص امریکہ کی فوجی مداخلت کی وجہ سے شام اور عراق میں دہشتگرد گروپوں پھیل کررہے ہیں.
ڈاکٹر خرازی نے علاقائی اور غیرعلاقائی طاقتوں کی مداخلت کو سیاسی تبدیلی کے لئے مناسب مواقع کی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مداخلت شام، لیبیا، عراق اور یمن میں غربت اور بھوک پیدا کرتا ہے.
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے بعض عرب ممالک کی غلطی پالیسیوں اور انتہا پسند وہابیوں کے رویے کی وجہ سے داعش، القاعدہ اور بوکوحرام دہشتگرد گروپوں قائم ہو رہے ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی علاقائی اور غیرعلاقائی ملک کی مداخلت کے بغیر تمام ممالک سمیت خطی ممالک کے مسائل حل کرنا چاہیئے.
کمال خرازی نے مزید کہا کہ یمن، شام، لیبیا، عراق اور افغانستان کے مسائل کا حل فوجی حل نہیں اور اقوام متحدہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرسکتا ہے.
نامور ایرانی سفارتکار نے کہا کہ ہر ملک کی ثقافت اور مسائل مختلف ہے اور اس کے حل اور امن کو برقرار رکھنے کا طریقہ مختلف ہونا چاہیئے.
خارجہ پالیسی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ مشرق وسطی اقتصادی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے اور صرف چند فریقی مذاکرات اور اجتماعی شراکت داری کے ساتھ اس مسائل حل کیا جا سکتا ہے.
انہوں نے علاقائی مسائل کے حل کے لئے مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کا واحد طریقہ عوام کی رائے، مسلمانوں اور مسیحیوں پر مشتمل ایک جمہوری حکومت کی تشکیل ہے اور علاقائی سلامتی کے ذریعہ تمام کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں.
انہوں نے شاہراہ ریشم کے 'ایک بیلٹ - ایک ہی راستہ' منصوبے کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ ریشم سے متعلقہ تمام ممالک کے باہمی تعاون کے ساتھ اس بڑے منصوبہ نفاذ کرسکتا ہے.
انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شاہراہ ریشم کے منصوبے کے نفاذ کے لئے تیار ہے کیونکہ ہمارے ملک نے اس سے پہلے عمان کے سمندر اور بحر ہند کو افغانستان، وسطی ایشیا اور روس سے منسلک کرنے کے لئے کوریڈور شمال – جنوبی کے منصوبے کی توسیع دیا ہے.
یاد رہے کہ چینی دارالحکومت 'بیجنگ' میں ایشیا میں رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں کانفرنس (CICA) کے دوسرے اجلاس کا آغاز بدھ کے روز ہوگیا جس میں ایران کے قومی خبررساں ادارے (IRNA) کے سربراہ 'محمد خدادی' سمیت دنیا کے 30 ممالک کے اعلی حکام شریک ہیں.
تفصیلات کے مطابق، سیکا تنظیم کے اداروں کے دو روزہ اجلاس میں محمد خدادی کے علاوہ ایران کی خارجہ تعلقات اسٹریٹجک کونسل کے چیئرمین 'کمال خرازی' اور تنظیم کے رکن ممالک کے 200 عہدیدار، نامور سیاستدان اور چین میں تعینات غیرملکی سفیر اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کررہے ہیں.
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، چین، عراق ، قزاقستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان ، جنوبی کوریا، روس، فلسطین، منگولیا، قرغزستان، ازبکستان، تاجکستان، جمہوری آذربائیجان، ترکی ، متحدہ عرب امارات ، بحرین، مصر اور تھائی لینڈ سیکا تنظیم کے رکن ممالک ہیں.
سیکا تنظیم کا سربراہی اجلاس 4 سال میں ایک بار ہوتا ہے جبکہ وزرائے خارجہ کا اجلاس 2 سال میں ایک بار ہوتا ہے. ایشیائی ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں چینی صدر کی جانب سے سیکا تنظیم کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی تھی جبکہ تنظیم کے سربراہی اجلاس کا انعقاد 2014 میں شنگھائی میں کیا گیا تھا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲