اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدر آباد()اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر فضل حسین اصغری نے مرکزی سیکرٹریٹ المہدی سینٹر جامشورو میں ولادت باسعادت حضرت امام حسن ؑ کے موقع پر تنظیمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسن ؑ بلند ترین صفات و کمالات کا مجسمہ تھے، آپ اپنے جد امجد اور والد بزرگوار کے صفات و کمالات کے مکمل آئینہ دار تھے جنھوں نے زمین پر فضائل و کمالات کے چشمے جاری کئے ۔امام حسن علیہ السلام فضائل و مناقب، اصل رائے، بلند افکار، ورع و پرہیزگاری، وسیع حلم، اخلاق حسنہ میں بلندئ کمالات پر فائز ہوئے یہ سب آپ ؑ کے اخلاق کے کچھ جواہر پارے ہیں۔ آپ نے مزید بتایا جب امام امامت کے مقدس منصب پر فائز ہوئے تو چاروںطرف ناامنی پھیلی ہوئی تھی اور اس کی وجہ آپ کے والد کی اچانک شہادت تھی۔ لہٰذا معاویہ نے جو کہ شام نامی صوبہ کا گورنر تھا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بغاوت کربیٹھا ۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھ غداری کی ، انھوں نے مال ودولت ،عیش و آرام وعہدہ کے لالچ میں معاویہ سے سانٹھ گانٹھ کر لی ۔ ایسی صورت میں امام حسن علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے ایک تو یہ کہ دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ شہید ہو جائیں یا دوسرے یہ کہ اپنے وفادار دوستوں اور فوج کو قتل ہونے سے بچا لیں اوردشمن سے صلح کرلیں۔ اس صورت میں امام نے اپنے حالات کا صحیح جائزہ لیا اور سرداروں کی بے وفائی اور فوجی طاقت کی کمی کی وجہ سے معاویہ سے صلح کرنا ہی بہتر سمجھا۔
صلح کے شرائط:
(۱) معاویہ کو اس شرط پر حکومت منتقل کی جاتی ہے کہ وہ الله کی کتاب ،پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے نیک جانشینوں کی سیرت کے مطابق کام کرے گا۔
(۲) معاویہ کے بعد حکومت امام حسن علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگی اور امام حسن علیہ السلام کے اس دنیا میں موجود نہ ہونے کی حالت میںحکومت امام حسین علیہ السلام کو سونپی جائے گی ۔
(۳) نماز جمعہ کے خطبے میں امام علی علیہ السلام پر ہونے والا سب وشتم ختم کیا جائے اور آپ کو ہمیشہ اچھائی کے ساتھ یاد کیا جائے۔
(۴ ) کوفہ کے بیت المال میں جو مال موجود ہے اس پر معاوہ کاکوئی حق نہ ہوگا ،معاویہ ہر سال بیس لاکھ درہم امام حسن علیہ السلام کو بھیجے کا اور حکومت کی طرف سے ملنے والے مال میں بنی ہاشم کو بنی امیہ پر ترجیح دے گا، جنگ جمل وصفین میں حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں حصہ لینے والے سپاہیوں کے بچوں کے درمیان دس لاکھ درہم تقسیم کئے جائیں اور یہ رقم ایران کے دارب گرد نامی صوبہ کی درآمد سے حاصل کئے جائیں۔
(۵) الله کی زمین پررہنے والے تمام انسانوں کو امان ملنی چاہئے، چاہے وہ شام کے رہنے والے ہوں یا یمن کے، حجاز میں رہتے ہوںیا عراق میں، کالے ہوں یا گورے۔معاویہ کو چاہئے کہ وہ کسی بھی شخص کو اس کے ماضی کے برتاؤ کی وجہ سے کوئی سزا نہ دے، اہل عراق کے ساتھ دشمنوں والا رویہ اختیار نہ کرے، حضرت علی علیہ السلام کے تمام ساتھیوں کی مکمل طور پر حفاظت کی جائے، امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام وپیغمبر اسلام کے خانوادے سے متعلق کسی بھی شخص کی کھلے عام یا پوشیدہ طور پر برائی نہ کی جائے۔
حضرت امام حسن علیہ السلام کے اس صلح نامہ سے معاویہ کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹ دیا اور لوگوں کو اس کے اصلی چہرے سے آشنا کرایا۔
آپ نے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہاایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کوخدا سے دعا کرتے دیکھا کہ خدایا مجھے دس ہزار درہم عطا فرما۔ آپ نے گھر پہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوا دی۔علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں آپ سے بغض رکھنے والا ایک شامی سامنے آ پڑا اس نے حضرت کو گالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کا مطلقا کوئی جواب نہ دیا۔جب وہ اپنی جیسی کر چکا تو آپ اس کے قریب گئے اوراس کو سلام کر کے فرمایا کہ بھائی شاید تومسافر ہے، سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں، اگر تو بھوکا ہے تو کھانا کھلادوں، اگرتجھے کپڑے درکارہوں تو کپڑے دیدوں، اگرتجھے رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کا انتظام کر دوں، اگر دولت کی ضرورت ہے تو تجھے اتنا دیدوں کہ توخوش حال ہو جائے۔یہ سن کر شامی بےانتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین خدا پر اس کے خلیفہ ہیں، مولا میں تو آپ کو اور آپ کے باپ دادا کوسخت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کا گردیدہ بنا دیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاؤں گا اور تاحیات آپ کی خدمت میں رہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲