9 جون 2017 - 16:02
ایران میں داعش سے منسلک 41 وہابی دہشتگرد گرفتار

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں کئے جانے والے آپریشنز کے دوران داعش دہشتگرد تنظیم سے منسلک 41 وہابی کارندوں کو پکڑ لیا گیا ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں کئے جانے والے آپریشنز کے دوران داعش دہشتگرد تنظیم سے منسلک 41 وہابی کارندوں کو پکڑ لیا گیا ہے.

محکمہ انٹیلی جنس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 'کرمانشاہ، کردستان، مغربی آذربایجان اور تہران' میں حساس اداروں کی جانب سے آپریشنز کئے گئے جس کے نتیجے میں داعش کے 41 وہابی دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا.

یہ آپریشنز پہلے سے گرفتار دہشتگردوں کے اہل خانہ کی اطلاعات اور باقی شدت پسندوں کے تعاون سے کئے گئے.

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشتگردوں اور وہابی کارندوں کے ٹھیکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بم، خودکش جیکٹس، کمیونیکیشن آلات اور جعلی دستاویزات برآمد کئے گئے.

ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکوک عناصر کے بارے میں بروقت اطلاع دے کر قومی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا.

ياد رہے کہ چار مسلح افراد نے بدھ کے روز تہران ميں ايرانی پارليمنٹ کے داخلی دروازے پر تعينات سيکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے ابتدائی نتيجے ميں معصوم شہری اور سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے.

پارليمنٹ پر فائرنگ کے چند لمحے بعد ہی فائرنگ کا دوسرا واقعہ پيش آيا جس ميں تين مسلح افراد نے تہران کے جنوبی علاقے ميں واقع بانی عظيم اسلامی انقلاب امام خمينی (رح) کے روضے کے باہر فائرنگ کردی.

ایران کے ادارہ لیگل میڈیکل کے مطابق تہران کے دہشتگردی کے واقعات میں ١٧ افراد شہید ہوگئے.

فرانس کے خبررساں ادارے (اے ايف پی) کے مطابق، بدنام زمانہ داعش کی دہشتگرد تنظيم نے تہران ميں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی.

گزشتہ روز ایرانی محکمہ اینٹلی جینس نے اپنے بیان میں کہا کہ 'ابوجہاد، قیوم، فریدون، سریاس اور رامین' ان پانچ دہشتگردوں میں شامل تھے جن کو سیکورٹی فورسز نے گزشتہ روز آپریشن کے دوران واصل جہنم کردیا.

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض سیکورٹی اور سماجی مسائل کی خاطر دہشتگردوں کے مزید تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی.

شناخت ہونے والے دہشتگرد وہابی اور تکفیری گروہوں سے منسلک تھے اور داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کرکے ایران سے باہر گئے تھے اور عراقی شہر موصل اور شام کے شہر رقہ میں بھی سفاکانہ کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں.

اس بیان کے مطابق، یہ پانچ دہشتگرد اگست 2016 کو داعش کا ایک کمانڈر ابوعائشہ کی قیادت میں ملک واپس آگئے اور وہ ایران کے مذہبی شہروں میں تخریب کاری کرنے کی سازش کررہے تھے مگر اس وقت بھی ایران کے حساس اداروں نے دہشتگردوں کی سازش کو ناکام بنادیا اور اس کاروائی میں ابوعائشہ ہلاک اور دیگر دہشتگرد ملک سے فرار ہوگئے تھے.

دریں اثنا ایران کے حساس اداروں کی ترجیحی بنیادیوں پر کئے جانے والے آپریشن کے نتیجے میں تہران کے سفاکانہ حملوں میں ملوث مزید دہشتگردوں کو پکڑلیا گیا.

ایران کی وزرات انٹیلی جنس نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ حساس اداروں کے اہلکاروں نے سپاہ پاسداران اور پولیس کے تعاون سے ملک کے مخصوص علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر آپریشنز کئے گئے جس کے نتیجے میں تہران واقعات میں ملوث مزید دہشتگردوں کو پکڑ لیا گیا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲