اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ جہاں دنیا بھر میں لوگ اپنے گھروں میں استطاعت کے مطابق افطاری کی تیاریاں کرنے میں مصروف ہیں، وہیں دنیا کے ایک کونے میں چند بچے رمضان میں بے گھر ہیں اور کھانے کی تلاش میں یا تو سڑکوں پر پھر رہے ہیں یا کسی کیمپ کے باہر لائن میں کھڑے ہو کر کھانا لینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، یہ جگہ عراق ہے۔
عراق میں جاری جنگ سے متاثر افراد اربیل اور موصل شہروں کے قریب موجود کیمپ کی جانب سے دی جانے والی مدد سے اپنے روزے افطار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ داعش نے موصل پر 2014 میں قبضہ کیا تھا۔
امریکا کی سربراہی میں متعدد ممالک کے فوجی اتحاد نے کئی سال قبل داعش کے خلاف عراق میں پہلی فضائی کارروائی کی تھی، جس سے عراقی جنگ میں ایک ڈرامائی تبدیلی لائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
2014 سے 2016 کے درمیان اتحادیوں نے عراق میں 9400 فضائی حملے کیے، جس کا مقصد مقامی فورسز کو شہروں، قصبوں اور سپلائی لائن کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
عراق کے اہم ترین شہر موصل میں گزشتہ سال 17 اکتوبر 2016 کو داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔
عراقی فورسز کو مشرقی موصل میں فتح کی کامیابی 3 مہینے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد حاصل ہوئی، جس کے بعد عراقی فورسز کا دعویٰ تھا کہ وہ مشرقی موصل پر اپنا کنٹرول قائم کرچکی ہے جبکہ جلد ہی مغربی موصل میں بھی داعش کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے گا۔
عراق میں جاری جنگ سے متاثر بچے خوراک کے لیے اربیل اور موصل کے قریب موجود کیمپس کا رُخ کر رہے ہیں
مشکل وقت اور جنگیں بھی بچوں کی معصوم مسکراہٹ ختم نہیں کر سکتی
بے گھر عراقی بے رمضان کے دوران ایک ساتھ فٹ بال کھیل کر اپنا وقت گزارتے ہیں
کھلونوں سےکھیلنےکی عمر والے ان بچوں کو افطاری لینے کے لیے لمبی قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے
بچے گرمی اور دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنی باریوں کا انتظار کرتے ہیں
بے گھر بچے امدای کیمپ کے باہر قطاروں میں لگ کر اپنے گھر والوں کے لیے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
جنگ سے متاثر یہ بچے موصل کے قریب لگائے گئے کیمپ پر موجود ہیں
کیمپ میں موجود بچوں کی لمبی قطار کیمرے کو دیکھ کر مسکرا رہی ہے
۔۔۔۔۔
/169