اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لیبی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطرکے ساتھ بیک وقت سفارتی تعلقات توڑنے کے علاوہ قطرکے ساتھ فضائی، سمندری اور زمینی راستے بھی بند کردیئے ہیں۔
بحرین نے کہا کہ وہ آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران قطر کے ساتھ تمام تر فضائی اور سمندری رابطے ختم کردے گا۔
سعودی عرب نے بھی قطر کے ساتھ تمام تر زمینی، فضائی اور سمندری رابطے فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ وہ منگل کی صبح سے قطر جانے اور وہاں سے آنے والی تمام پروازیں معطل کررہا ہے۔
مصراور لیبی نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی فضائی اور سمندری حدود قطر کے لیے بند کر رہا ہے۔ یمن پر جارحیت کرنے والے سعودی اتحاد کی کمان نے قطر کے ساتھ تعاون ختم اور اس کے فوجیوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے اس اقدام کو قطر پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دوحہ پر لگائے جانے والے الزامات کو بلاجواز اور بے بنیاد قرار دیا گیا۔
قطر کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے اس فیصلے کا قطر کے شہریوں کی زندگیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے، ریاض اورواشنگٹن کے مابین ہونے والے ہتھیاروں کے معاہدے اور ریاض اجلاس کے دوران ٹرمپ کی تقریر کے بعد سعودی عرب، قطر اوردوسرے عرب ممالک کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169