اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامي جمہوري ايران كي پارليمنٹ (مجلس) كے نمائندوں نے بحريني حكومت كي طرف سے شہريوں كے خلاف پرتشدد كاروائي كي پرزور مذمت كي ہے.
ايران كي پارليمنٹ كے 299 نمائندوں ميں سے 154 نمائندوں نے ايك بيانيے ميں بحريني حكومت كي طرف سے بحرين كے ممتاز شيعہ عالم دين آيت اللہ شيخ عيسي قاسم كي گرفتاري كے خلاف سخت احتجاج كرتے ہوئے ان كي فوري رہائي كا مطالبہ كيا.
ايراني ركن پارليمنٹ احمد اميرابادي نے اس بيانيے كو پڑھ كر سنايا جس ميں لكھا تھا كہ بحرين كي عدليہ كي طرف سے آيت اللہ عيسي قاسم كو ايك سال جيل كي سزا اور ديگر جھوٹے الزمات لگائے گئے جو كہ غير منصفانہ ہے اور اب تك ان كا كوئي بھي جرم ثابت نہيں ہوا ہے.
اس بيانيے ميں كہا گيا ہے كہ بحريني حكومت كا يہ وحشيانہ اقدام امريكي صدر ڈونلڈ ٹرامپ كے دورہ سعودي عرب اور ناجائز صيہوني حكومت كے دورے كے بعد اختيار كيا گيا.
ايراني پارليماني نمائندوں نے آل خليفہ حكومت كي بحريني عوام پر وحشيانہ كاروائي كے خلاف سخت مذمت كرتے ہوئے بحريني عوام كے پرامن احتجاج اور ان كے حقوق كي حمايت كا اعلان كيا.
ياد رہے كہ بحرين كي آل خليفہ حكومت كي فوج اور سيكورٹي اہلكاروں نے مناما كے علاقے الدراز ميں مظاہرين پر حملہ كركے متعدد شہريوں كو شہيد اور زخمي كرديا ہے جبكہ آيت اللہ شيخ عيسي قاسم كو ان كو گھرميں نظر بند كر ديا گيا ہے.
گزشتہ ہفتے كو بحرين كي ايك نام نہاد عدالت نے آيت اللہ شيخ عيسي قاسم كو ايك سال قيد كي سزا سنائي تھي جس كے بعد عوامي مظاہروں ميں اضافہ ديكھنے ميں آيا.
گزشتہ جون ميں آيت اللہ شيخ عيسي قاسم كي شہريت منسوخ كرديے جانے كے بعد سے بڑي تعداد ميں بحريني شہري الدراز كے علاقے ميں ان كے گھر كے باہر ان كي حمايت ميں دھرنے پر بيٹھے ہوئے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲