اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے امریکہ پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی اصولی اور غیرمتزلزل بنیاد پر مبنی ہے اور امریکہ جان لے کہ اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے آئندہ انتخابات پر اثر و رسوخ ڈال سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہوگی.
ان خيالات كا اظہار وزير دفاع اور لاجسٹك بريگيڈيئر جنرل 'حسين دھقان' نے روسي ٹيلي ويژن 'روسيا اليوم' كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايراني قوم بہت ذہين اور دشمنوں كا مقابلہ كرنے كے لئے ہروقت تيار ہے اور امريكہ اگر يہ سمجھتا ہے كہ وہ ايراني انتخابات كو متاثر كرسكتا ہے، تو وہ وہم كا شكار ہے.
انہوں نے كہا كہ ہم دہشتگرد عناصر كے درميان اچھے اور برے كا فرق نہيں ركھتے اور ہم سمجھتے ہيں جب دہشتگردي كے خلاف امتيازي سلوك اور دھرے معيار كا خاتمہ كيا جائے تو اہم اس لعنت كے خاتمے كے ايك مشتركہ نقطہ نظر پر پہنچ سكتے ہيں.
صہيونيوں كي جارحيت اور ناجائز قبضے كے خلاف فلسطيني قوم كي مزاحمت اورت فلسطيني گروپوں كي جنگ كو سراہتے ہوئے ايران كے وزير دفاع نے كہا كہ ہم فلسطين قوم اور مزاحمتي تنظيموں كو مجاہد اور بہادر سمجھتے ہيں اور يہ وہ لوگ ہيں جو اپنے تاريخي اور قانوني حق كے لئے ايك ناجائز اور غاصب رياست كے خلاف لڑ رہے ہيں.
انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، صہيونيوں اور ان كے ہاتھوں فلسطيني سرزمين پر قبضے كو بالكل ناجائز سمجھتا اور نام نہاد صہيوني حكومت كو بھي غيرقانوني اور ايك جعلي حكومت سمجھتا ہے.
علاقائي صورتحال بالخصوص عراق اور شام كے حالات پر تبصرہ كرتے ہوئے بريگيڈيئر جنرل 'حسين دھقان' نے كہا كہ آج غيرعلاقائي دہشتگرد عناصر شام، يمن اور عراق ميں قانوني نظام اور حكومتوں كے خلاف لڑ رہے ہيں اور ہم ان عناصر كو دہشتگرد سمجھتے ہيں.
انہوں نے وہابيت كي حمايت اور ترويج كرنے پر برطانيہ اور سعودي عرب كو شديد تنقيد كا نشانہ بنايا اور اس بات پر زور ديا كہ برطانيہ كے حوالے سے وہابيت كي مالي حمايت كرنے پر تحقيقات كرنے ہوں گے.
حسين دہقان نے بتايا كہ آج سعودي عرب خطے ميں امريكہ اور صہيونيوں كا نمائندہ بنا ہوا ہے، مغربي طاقتيں ايران،سعودي عرب، فارس اور عرب كے مسائل كو ہوا دے رہي ہيں، يہ ممالك خطے ميں كشيدگي اور تناو ميں اضافے لئے قومي، نسلي اور مذہبي اختلافات كي آگ كو بڑھكا رہے ہيں.
شام پر امريكہ كے ميزائل حملے كے حوالے سے انہوں نے بتايا كہ امريكہ كي اس جارحيت كا مقصد در اصل دہشتگردوں كا دفاع كرنا تھا.
انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران عالمي سطح پر اسلامي اتحاد كي تشكيل كا خيرمقدم كرتا ہے تاہم بعض عناصر كي جانب سے يہ تصور ديا جارہا ہے كہ خطے ميں شيعہ اور سني اتحاد بننے جارہے ہيں جبكہ اس ميں كوئي حقيقت نہيں اور نہ ہي ايسا كوئي اقدام پر غور كيا جارہا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲