اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ سلسلہ امامت کی ساتویں کڑی حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کے یوم شہادت کے موقع پر جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں حسب عمل قدیم مجلس عزا منعقد ہوئی، جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے دسیوں ہزار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حضرت امام موسیٰ کاظم کے سیرت و کردار اور واقعات شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور سربلندی کیلئے ائمہ معصومین ؑ کی لامثال قربانیوں کو ملت اسلامیہ کا سرمایہ افتخار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ معصومینؑ نے اسلام اور امت مسلمہ کو فاسق حکمرانوں اور جابر قوتوں کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے انسانیت سوز مظالم کا سامنا کرکے اپنی منصبی ذمہ داریوں کا بھر پور مظاہرہ کر کے اس حوالے سے مسلمانوں کی مسؤلیت کا تعین کیا۔ حکومت وقت نے امام موسیٰ کاظم ؑ کو مسلسل جبروتشدد کا نشانہ بنایا اور تاعمر قید تنہائی میں رکھا تاکہ امام عالی مقامؑ کو اپنے جد بزرگوار پیغمبر اکرم کے مشن سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے لیکن امامؑ کے عزم واستقامت کے آگے حکمرانوں کے تمام حربے سراب ثابت ہوئے۔
آغا صاحب نے بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی صبر آزما جدوجہد اور مسلسل مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد یقینی طور پر اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ بھارت کی تمام تر جابرانہ پالیسیوں کے باوجودکشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے ہیں۔ سیاسی اور اخلاقی نقطہ نگاہ سے کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے کب کانکل چکاہے، پھر بھی بھارت اپنے سامراجی دبدبے کے بل پر کشمیریوں کے تھکنے، بکنے اور جھکنے کی امید لگائے ہوئے ہے۔ آغا صاحب نے واضح کیا کہ کشمیریوں کے تھکنے، بکنے اور جھکنے کے بھارتی خواب کی کوئی تعبیرنہیں، بلکہ ہر نئی بربریت عوام کے تحریکی جذبات میںمزید استحکام کی باعث بن رہی ہے۔
آغا صاحب نے کشمیری طالب علموں پر سرکاری فورسز کی حالیہ پُر تشدد کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا ایک حساس طبقہ ہونے کے ناطے طلاب اپنی قوم پر ہورہی ظلم وزیادتیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تاہم طلاب کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا قوم اور تحریک کے مستقبل کاایک ناگزیر تقاضا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران آغا صاحب نے گیلانی صاحب کی کتاب کی رسم رونمائی کے حوالے سے مجوزہ سیمینارپر قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقعہ پر آغا صاحب نے اہلیان میر بحری کے ساتھ ریاستی انتظامیہ کا برسہا برس سے ناروا سلوک اور علاقہ کی ناگفتہ بہہ حالات پر شدید غم و غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ لاوڑا دانستہ طور پر علاقہ میر بحری کو سال میں کئی بار سیلابی صورتحال سے دوچار کر رہا ہے،تاکہ یہاں کے عوام کو علاقے سے جبری انخلا پر مجبور کیا جاسکے۔ آغا صاحب نے ریاستی انتظامیہ پر زوردیا کہ علاقہ میر بحری کی موجودہ سیلابی صورتحال اور عوام کو درپیش شدید مسائل کا ازالہ کرنے کیلئے موثر اقدامات کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲