10 اپریل 2017 - 12:23
امریکہ کا بحری بیڑہ کوریا کی جانب روانہ ہو گیا

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائلی مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا ہے جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے تنازعات کے پر امن حل پر ایسی حالت میں زور دیا ہے کہ امریکا کا کارل ونسٹن جنگی بحری بیڑہ کوریا کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائلی مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا ہے جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے تنازعات کے پر امن حل پر ایسی حالت میں زور دیا ہے کہ امریکا کا کارل ونسٹن جنگی بحری بیڑہ کوریا کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

سئول سے موصولہ خبروں کے مطاب جنوبی کوریا میں کوریائی اتحاد سے متعلق وزارت کے ترجمان نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ سیئول، شمالی کوریا  کے ساتھ کشیدگی یا فوجی محاذ آرائی نہیں چاہتا اور سبھی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے-

جنوبی کوریا کی مذکورہ وزارت کے ترجمان نے کہا کہ جزیرہ نمائے کوریا میں امن و استحکام برقرار اور شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائلی ہتھیاروں سے مربوط مسائل کو دانشمندی اور منطقی طریقے سے حل کیا جانا چاہئے-

ان کا کہنا تھا کہ سیئول حکومت کی موجودہ پالیسی، شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنا اور اس پر پابندیاں عائد کرنا ہے اور ساتھ ہی؛ پیونگ یانگ کے ساتھ پائے جانے والے مسائل اور اختلافات کو حل کرنے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کی کوشش کرنا ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکا کا ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ جزیرہ نمائے کوریا کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ امریکا کی پیسیفیک کمان کے مطابق کارل ونسٹن نامی ٹاسک فلیٹ، سنگاپور سے مغربی بحرالکاہل کی جانب روانہ ہو گیا ہے -

امریکا کے ایک سرکاری عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جزیرہ نمائے کوریا میں طاقت کی تقویت ضروری ہے- خبروں کے مطابق امریکا کا یہ بحری بیڑہ جو پہلے آسٹریلیا بھی جانے والا تھا اب غیرمعینہ مدت تک مغربی بحرالکاہل میں موجود رہے گا-

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے گذشتہ ہفتے ایک بیلیسٹک میزائل بحیرہ جاپان کے سمندر کی جانب فائر کیا تھا- شمالی کوریا نے یہ اقدام اپنی اس دھمکی کے چند روز بعد انجام دیا کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ پیونگ یانگ کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں کا جواب دے گا-

اس کے  علاوہ شمالی کوریا نے یہ میزائل  تجربہ ایک ایسے وقت انجام دیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ شمالی کوریا کے میزائلی تجربات کے جواب میں یکطرفہ اقدام کریں گے-

گذشتہ مہینے امریکا کے خفیہ اداروں کے دو اعلی عہدیدروں نے دعوی کیا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے ایٹمی حملہ کیا تو اس میں دسیوں لاکھ امریکی شہری مارے جائیں گے-

شمالی کوریا نے فروری کے مہینے میں بھی بیک وقت چار میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جبکہ گذشتہ برس اگست میں اس نے اپنی آبدوز سے بھی ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو جاپان کے سمندر میں پانچ سو کلومیٹر نیچے تک گیا تھا-

شمالی کوریا کے رہنما نے اپنی مسلح افوا ج کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اس کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا-

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے بارہا جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک علاقے میں امریکا کی فوجی موجودگی برقرار رہے گی جزیرہ نمائے کوریا میں امن قائم نہیں ہو سکے گا-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲