اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈھاکہ میں منعقدہ بین الپارلیمانی یونین اسمبلی اجلاس میں شریک ایرانی وفد کے رکن نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کی مضبوطی اور امن و استحکام کے حوالے سے تعاون کرنے پر آمادہ ہے.
يہ بات 'سيدمصطفي ذوالقدر' نے بنگلہ ديش كے دارالحكومت ڈھاكہ ميں منعقدہ 136 ويں بين الپارليماني يونين اسمبلي اجلاس كے موقع پر 'جمہوريت كےعالمي اعلاميہ كي بيسويں سالگرہ' كے نام سے منعقدہ تقريب ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.
انہوں نےجمہوريت كے لحاظ سے ايراني حكومت كو سراہتے ہوئے كہا كہ پارليماني تعاون ممالك كي ترقي سميت انساني حقوق اور جمہوريت كي ترقي كے ليے فعال كردار ادا كر رہي ہيں.
انہوں نے كہا كہ جمہوريت ايراني حكومت اور آئين ميں ايك اہم سنگ ميل ہے جو اسلامي انقلاب كے بعد گزشتہ 38 برسوں كے دوران ايراني پارليماني ،صدارتي اور بلدياتي اور ديہي كونسلوں كے انتخابات اس بات كا ثبوت ہيں.
انہوں نے كہا كہ ايراني مجلس كے اراكين براہ راست عوام كي جانب سے منتخب ہو رہے ہيں اور اس حوالے سے كسي تحريك سے منسلك نہيں ہوتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ ايران كے آئين كے مطابق، اگر ايراني عدليہ اپنے فرائض كي خلاف ورزي كرے تو ايراني عوام،پارليمنٹ كي كميشن ميں عدليہ كے خلاف شكايت كر سكتے ہيں.
اس موقع پر انہوں نے مزيد كہا كہ موجودہ انتہائي حساس صورتحال ميں عالمي برادري كو بين الاقوامي امن و سلامتي كو مضبوط بنانے ميں عوام كے تعميري كردار كو مد نظر ركھنا چاہيے.
انہوں نے شام ،يمن اور مقبوضہ فلسطين ميں بگڑتي ہوئي صورتحال كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ بدقسمتي سے اقوام متحدہ كے اقدامات كے باوجود ابھي ان تك ان علاقوں ميں بحران جاري ہيں اور حكومتوں ميں استقلال كا نہ ہونا اور بيروني طاقتوں كا ان كے اندروني معاملات ميں مداخلت يہ سب كچھ خطے ميں مزيد كشيدگي كا باعث ہيں.
انہوں نے اس اجلاس ميں عالمي امن و سلامتي كے تحفظ كے حوالے سے تعاون كے ليے اپني مكمل آمادگي كا اعلان كيا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲