اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روسي صدر نے اپنے ايراني ہم منصب كے ساتھ ہونے والي نويں ملاقات ميں دونوں ممالك كے درميان موجود ديرينہ تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا ہے كہ اسلامي جمہوريہ ايران ہمارا پڑوسي اور قابل بھروسہ دوست ہے.
تفصيلات كے مطابق، روسي ايوان صدر، كريملن ميں ہونے والي اس ملاقات ميں ايران اور روسي سربراہان مملكت كي قيادت ميں دونوں ملكوں كے اعلي سطح وفود بھي شريك ہيں.
صدر پوٹن نے ايران اور روس كے درميان 500 سال قديم سفارتي تعلقات كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ تہران اور ماسكو دوطرفہ تعلقات كي توسيع كے علاوہ تمام مسائل اور مذاكرات پر مشتركہ مؤقف ركھتے ہيں.
انہوں نے بتايا كہ دونوں ممالك خطي اور عالمي مسائل كے حل بالخصوص باہمي اقتصادي سرگرميوں كو بڑھانے كے حوالے سے بھي تعميري تعاون كر رہے ہيں.
روسي صدر نے كہا كہ 2015 كے مقابلے ميں 2016 ميں ايران اور روس كے درميان اقتصادي تبادلوں ميں 70 فيصد اضافہ ديكھا گيا ہے.
ايراني اور روسي سربراہان مملكت اپني اس اہم ملاقات كے موقع پر دونوں ممالك كے درميان جامع سٹريٹجك تعاون كے روسيع كے عنوان سے مشتركہ اعلاميہ جاري كرديں گے.
تفصيلات كے مناطق؛ ايران اور روس كے درميان سياحت، اقتصادي، عدالتي اور صنعت كے شعبوں ميں تعاون كے 15 معاہدوں پر دستخط ہوں گے.
ماسكو كے دورے كے موقع پر روس كي يونيورسٹي ايم.جي.او كي جانب سے صدر اسلامي جمہوريہ ايران كو ڈاكٹريٹ كي اعزازي ڈگري نوازا گيا.
اس كے علاوہ صدر اسلامي جمہوريہ ايران نے آج ماسكو ايوان صدر، كريملن كے قريب گمنام روسي سپاہيوں كي يادگار پر پھلو چڑھائے اور انھيں خراج تحسين بھي پيش كيا.
صدر روحاني گزشتہ روز ماسكو پہنچنے كے بعد روسي وزيراعظم كے ساتھ ملاقات كي.
ڈاكٹر روحاني اور روس كے وزيراعظم دمتري ميدويدف نے اس ملاقات ميں دوطرفہ تعلقات كي توسيع پر تبادلہ خيال كيا اور خطے ميں مشتركہ تعاون بڑھانے كا بھي جائزہ ليا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲