22 مارچ 2017 - 12:17
امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی سفری پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیا

امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے بعض ملکوں سے آنےوالی پروازوں کے مسافروں کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حکومت برطانیہ نے یہ فیصلہ حکومت امریکہ کے جاری کردہ احکامات کے بعد کیا ہے جس کے تحت مشرق وسطی اور شمالی افریقہ سے برطانیہ آنے والے مسافر طیارے میں الیکٹرانک ڈیوائسز ساتھ لانے کے مجاز نہیں ہوں گے۔امریکا نے سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے سات اور برطانیہ نے چھے مسلم ممالک کے شہریوں پر ایسی پابندیاں عائد کی ہیں۔امریکا کے ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ نے سعودی عرب  سمیت مشرقی وسطیٰ کے سات اور شمالی افریقی ملک مراکش کے مسافروں پر طیارے میں لیپ ٹاپ، کیمرہ، ٹیبلٹس، پرنٹر، الیکٹرانک گیمز، پورٹیبل ڈی وی ڈی اور ای ریڈر سمیت ہر قسم کے برقی آلات لانے پر پابندی ‏عائد کردی ہے۔برطانیہ نے جن ممالک کے مسافروں پر پابندی عائد کی ہے ان میں سعودی عرب، مصر، ترکی، اردن، لبنان اور تیونس کے نام شامل ہیں۔اس سے قبل واشنگٹن کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی نو فضائی کمپینوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ امریکہ آنے والی پروازوں میں مسافروں کو برقی آلات طیارے میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ پابندی عارضی طور پر لگائی گئی ہے اور اس کا اطلاق مشرقی وسطی اور شمالی افریقہ سے براہ راست امریکہ آنے والی پروازوں پر ہوگا جس پر منگل سے عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔مذکورہ امریکی عہدیدار نے دعوی کیا کہ دہشت گرد گروہ نئے طریقوں سے فضائی ٹرانسپورٹ پر حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔امریکہ کے اس اقدام سے نو فضائی کمپنیوں کی پچاس پروازیں متاثر ہوں گی جو دنیا کے دس بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے پرواز کرتیں جن ہیں میں، امان، قاہرہ، استنبول، جدہ، ریاض، کویت، دوحہ ، دبئی، ابوظہبی اور دارالبیضا شامل ہیں۔یہ تمام ان ممالک کے دارلحکومت اور اہم شہر ہیں جو علاقے میں امریکہ کے قریبی اتحادیوں میں شامل ہیں۔تاحال حکومت امریکہ اور برطانیہ کے اس فیصلے پر کسی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم سخت ردعمل کی توقع بھی ظاہر کی جارہی ہے۔دہشت گردوں کی در اندازی روکنے کی غرض سے امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے اس قسم کی پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی جارہی ہیں جب ، یہ ممالک ، شامی حکومت کے مخالفین کی بھرپور حمایت کرکے، مشرق وسطی میں دہشت گرد گروہوں کے قیام اور دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲