27 فروری 2017 - 08:32
طارق انور نے مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی وکالت کی

مسئلہ فلسطین پر ایران میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹنے والے این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر طارق انور نے کل رات اپنی رہائش گاہ پرعشائیہ میں نامہ نگارو ں سے بات چیت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی وکالت کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق طارق انور نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ فلسطین کا مسئلہ کسی قوم اورکسی خاص جماعت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے،اسے حقوق انسانی اورعالمی برادری کا مسئلہ بھی بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

طارق انور نے کہاکہ اسے جب تک حقوق انسانی کا مسئلہ نہیں بنایا جائیگا تب تک ظالموں کو ہوش نہیں آئیگی ۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے فلسطینیوں کو ان کی زمین پر جینا اجیرن کردیاگیا ہے اور روز بہ روز ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش ہورہی ہے وہ نہایت ہی شرمناک ہے ۔

طارق انور نے کہاکہ اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر جس طرح بم و بارود برسائے جارہے ہیں اور معصوموں کو نشانہ بنایاجارہاہے اس پرعالمی برادری کو سخت نوٹس لینا چاہئے اور فوراً اسرائیلی مظالم کو روک کر فلسطینیوں کو ان کی زمین پر جینے کا پرامن موقع ملنا چاہئے ۔

طارق انور نے کہاکہ ہندوستان کا یہ واضح موقف ہے کہ فلسطینیوں کا اسی طرح فلسطین پر حق ہے جس طرح انگریزوں کا برطانیہ پر حق ہے اور ہندوستان پہلا غیرعرب ملک ہے جس نے فلسطین کو تسلیم کیاتھا جس کیلئے پنڈت جواہرلال نہرو کی سرکار مبارکباد کی مستحق ہے، لیکن نرسہما رائو کی سرکار نے جس طرح اس رشتہ کا خون کیا ہے اسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

طارق انور نے موجودہ مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کے معاملہ میں اپنے موقف کا نہ صرف اعادہ کرے بلکہ یہ بھی وہ واضح کرے کہ گذشتہ 66سالوں میں جو خارجہ پالیسی چلی آرہی ہے اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی ۔

طارق انور نے کہاکہ جس طرح ہماری خارجہ پالیسی میں مودی سرکار نے تبدیلی شروع کی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستان آنے والے دنوں میں بین الاقوامی پلیٹ فارم پراکیلا پڑ جائیگا ۔ طارق انور نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے شروع سے عربوں سے بہترین تعلقات رہے ہیں لیکن جس طرح سے ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے اور میڈیا میں یہ خبر آرہی ہے مودی اسرائیل کا ممکنہ دورہ کرنے والے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستان کو اسرائیل نہ مٹنے والا زخم ضرور دے گا، کیونکہ اسرائیل کبھی کسی کا دوست نہیں رہاہے ۔

طارق انور نے مودی سرکار کی جانب سے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے ساتھ دفاع کے شعبوں میں کئے گئے سمجھوتے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سودے ہندوستان کیلئے کسی بھی طرح سود مند نہ ہوں گے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنے کی غلطی نہ کرے ورنہ ملک کیلئے یہ چیز بہتر نہ ہوگی ،کیونکہ ہندوستان کی امیج ہمیشہ سے ایک غیر جانبدار اور انصاف پسند ملک کی رہی ہے ۔اس موقع پر دہلی بی جے پی کے صدر رمیش گپتا ، جنرل سکریٹری نعیم انصاری اور اوبی سی کے چیئرمین راج کمار ادھانا عرف راجیو گجر بھی موجود تھے ۔

واضح رہے کہ فلسطین کی تحریک انتفاضہ کی حمایت میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس تہران میں منگل اکیس فروری کو رہبراسلامی انقلاب حضرت آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای کے خطاب سے شروع ہوئی اوراس كانفرنس كی اختتامی نشست سے ايرانی صدرڈاکٹر حسن روحانی نے خطاب کیا جس كے بعد مشتركہ اعلاميہ پڑھ كر سنايا گیا.

.......

/169