اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیرخارجہ رکس ٹیلر سن کی تقریب حلف برداری میں کہا کہ امریکا کو عالمی امن و سلامتی کی ضرورت ہے - انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب خود انہوں نے عہدہ صدارت سنبھالتے ہی ایسے فرمان جاری کئے ہیں جن سے ان کی جنگ پسندی کی نشاندہی ہوتی ہے - انہوں نے نئے وزیرخارجہ رکس ٹیلرسن کی تقریب حلف برداری میں کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ خارجہ امور کو آنکھ کھول کر کام کرنے والوں کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ موجودہ دنیا پر ایک نئے انداز سے نظر ڈالیں اور پرانے حقائق کی بنیاد پر نئی راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں - ٹرمپ نے کہاکہ امریکا کے ورثے میں مشرق وسطی اور دنیا کے بڑے بڑے چیلنج اور مشکلات آئی ہیں لیکن ان مشکلات کے باوجود امن و صلح تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے - انہوں نے امریکا کے نئے وزیرخارجہ کی توانائیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ خارجہ پالیسی کے میدان میں امریکا کو عالمی امن وصلح کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت ہے - ٹرمپ نے عالمی امن و صلح کو امریکا کی ایک ضرورت ایسے عالم میں قراردیا ہے جب اپنے دور صدارت کے بالکل ابتدائی دنوں میں ہی عالمی معاملات منجملہ مغربی ایشیا ، یورپ کے ساتھ تعاون ، چین کے ساتھ معاملات اور نئے میزائلی سسٹم نصب کرنے جیسے موضوعات کے سلسلے میں واشنگٹن کی پالیسی انتہائی جارحانہ اور دنیا کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کرنےوالی رہی ہے - ڈونلڈٹرمپ نے ساتھ ہی میکسیکو کے صدر کو ٹیلی فون کرکے انہیں دھمکی دی ہے کہ وہ سرحدوں پر فوج تعینات کریں گے - امریکا اور میکسیکو کے صدور کی ٹیلی فونی گفتگو کے ایک حصے میں جس کا متن ایسو سی ایٹڈ پرس میں بھی شائع ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ میکسیکو کے صدر نی یہ تو سے کہہ رہے ہیں کہ اگرمیکسیکو نے تارکین وطن کو امریکا میں داخل ہونے سے نہ روکا تو امریکا انہیں روکنے کے لئے میکسیکو سے ملنے والی امریکی سرحدوں پر فوج روانہ کردے گا - ٹرمپ نے میکسیکو کے صدر سے کہا کہ آپ تارکین وطن کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات نہیں کررہے ہیں- میں سمجھتاہوں کہ آپ کی فوج ڈرتی ہے لیکن ہماری فوج ایسی نہیں ہے - اور ہم تارکین وطن کو روکنے کے لئے سرحدوں پر فوج تعینات کرسکتے ہیں - ٹرمپ نے امریکا اور میکسیکو کے درمیان دیوار کھینچنے کا فرمان جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے حکمنامے پر بھی دستخط کیا ہے جس میں امریکا میں مقیم لاطینی امریکا کے ملکوں اور میکسیکو کے ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کے لئے حالات بیحد سخت ہوجائیں گے اور اس حکمنامے کے تحت انہیں امریکا سے باہر نکال دینے کا راستہ بھی ہموار ہوجائےگا - دوسری جانب امریکی وزیرجنگ نے صدر ٹرمپ کے ایکزیکیٹیو آرڈر کی بنیاد پر پنٹاگون کے بجٹ میں مزید اضافے کی درخواست کی ہے - امریکی وزیر جنگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے دوہزار سترہ کے فوجی بجٹ پر نظرثانی کی جائےاور دوہزار اٹھارہ کے لئے بجٹ کا جو متن تیار کیا گیا ہے اس پر بھی نظر ٹانی ہونی چاہئے - امریکی وزیرجنگ جیمز مٹیس نے کہا ہےکہ ہمارا آخری مقصد ایک انتہائی طاقتور اور تباہ کن مشترکہ فوج کا قیام ہے - ان بیانات اور اقدامات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتاہے کہ امریکیوں کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ستر سال پہلے شروع ہوئی تھی اب ٹرمپ کے دور اقتدار میں کھل کر اس کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات تیز ہوگئے ہیں - امریکا کو دوبارہ طاقتور بنانے کا نعرہ یا امریکا فرسٹ ، امریکی مصنوعات ہی خریدو اور امریکیوں کو ہی ملازمت دو جیسے نعرے اگرچہ بادی النظر میں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ ملک کے داخلی مسائل پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اپنی ہی من مانی کرنا چاہتی ہے اور ہر کام اکیلے دم پر اور عالمی سطح پر کسی کو ساتھ لئے بغیر ہی آگے بڑھنے کی پالیسی پر عمل کررہی ہے - بنابریں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا کو عالمی امن و صلح کی ضرورت ہے امریکا کی خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتا -
۔۔۔۔۔۔۔
/169