22 جنوری 2017 - 08:27
امریکی صدر کی انتہائی متنازعہ تقریب حلف برداری

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف ایک ایسے عالم میں اٹھایا ہے جب ان کی تقریب حلف برداری کو امریکی تاریخ میں انتہائی متنازعہ قرارد یا جا رہا ہے جس وقت ٹرمپ اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے اسی وقت واشنگٹن اور امریکا کے دیگر شہروں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ان کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: تقریب حلف برداری میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کے نئے صدر ٹرمپ نے سابقہ حکومتوں کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت جب امریکا کے بنیادی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں امریکا سے باہر اربوں ڈالر خرچ کرنا ایک غلطی ہے - ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بے شمار لوگ غربت کا شکار ہیں -
انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکا میں تعلیمی نظام کے لئے مختص کافی بجٹ کے باوجود امریکی نوجوان منشیات کے عادی ہو رہے ہیں اور تعلیم سے دور ہیں البتہ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ مشکلات آج سے دور ہوجائئں گی -
ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ملکوں میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں اربوں ڈ الر خرچ کرنے کو ایک غلط پالیسی بتایا -
انہوں نے کہا کہ امریکی سیاستدانوں نے اب تک صرف باتیں کی ہیں لیکن عوام کے لئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا ہے - اس درمیان وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی مفادات اور قومی سلامتی کو مد نظر رکھ کر خارجہ پالیسی کے اصول پر عمل کرے گی بیان میں کہا گیا ہے کہ طاقت کے ذریعے امن کا حصول امریکی خارجہ پالیسی کا اصل مرکز ہوگا-
بیان کے مطابق داعش اور دیگر دہشت گـرد گروہوں کو شکست دینا ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی اور نئی حکومت ان گروہوں کو شکست دینے کے لئے ضروری ہوا تو فوجی کارروائی بھی کرے گی -
ٹرمپ انتظامیہ نے داعش کو شکست دینے کی بات ایک ایسے وقت کی ہے جب بیس جنوری کو رخصت ہونے والی امریکی حکومت کے وزیرخارجہ جان کیری نے صراحت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے شام کے صدر بشاراسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے داعش کو ہتھیار فراہم کئے تھے اور اس کی مدد کی تھی -
دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کا خاکہ کھینچتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے جدید ترین میزائل سسٹم تیار کرے گی اور امریکی فوج کو دوبارہ طاقتور بنائے گی -
دوسری جانب جس وقت ڈونلڈٹرمپ امریکا کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے تھے واشنگٹن سمیت امریکا کے دیگر شہروں اور دنیا کے تیس دیگر ملکوں میں بھی لوگ ان کے خلاف مظاہرے کررہے تھے - واشنگٹن کی پولیس نے ٹرمپ کے خلاف پرتشدد مظاہرے میں شریک ایک سوبیس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے -
پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لئے مرچ کے اسپرے اور دیگر طریقوں کا سہارا لیا -
سی این این نے خبردی ہے کہ واشنگٹن کی بلوا پولیس نے کم سے کم ایک سو بیس مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے - سی این این نے وہ تصریریں بھی دکھائی ہیں جن میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں اور پولیس مظاہرین پر طاقت کا استعمال کررہی ہے - مظاہرین نے بھی پولیس پر اینٹیں اور پتھر پھینکے -
مظاہرے کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں - مظاہرین نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے دوران واشنگٹن کو بلاک کردیں گے -
تقریب حلف برداری کےوقت ہونےوالے پرتشدد مظاہروں کے دوران واشنگٹن میں بہت سی دوکانوں اور مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی - مظاہرین نعرے لگا رہے تھے ٹرمپ ہمارے صدر نہیں ہیں -

۔۔۔۔۔۔۔

/169