اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے البانیا کے وزیر خارجہ 'دتمیر بوشاتی' سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے بعد تہران اور تیرانا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں.
انہوں نے مختلف شعبوں بشمول اقتصادي اور تجارتي شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو وسعت دينے پر زور ديتے ہوئے كہا كہ نجي شعبے ميں تعاون دونوں ملكوں كے تعلقات كے فروغ ميں اہم كردار اد كرسكتے ہيں.
انہوں نے البانيا كي اعلي سياسي شخصيات كي جانب سے آيت اللہ ہاشمي رفسنجاني كے انتقال پر تعزيتي پيغامات كا خيرمقدم كرتے ہوئے كہا كہ ہم البانيا كے ساتھ اپنے باہمي تعلقات كو وسعت دينے كے لئے آمادہ ہيں.
صدر روحاني نے دونوں ممالك كے گہرے ثقافتي اشتراكات كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ ايران اور البانيا كے درميان باہمي روابط كا استحكام دونوں ممالك كے مفاد ميں ہے.
انہوں نے دہشت گردي اور انتہاپسندي سے مقابلہ كرنے پر زور ديتے ہوئے كہا كہ دہشت گردوں سے نمٹنا ہم سب كي ذمہ داري ہے.
صدر روحاني نے بلقان علاقے كے امن اور استحكام كے حوالے سے كہا كہ ہم دہشت گردوں كے خلاف جنگ ميں البانيا كے ساتھ تعاون كرنے كے لئے تيار ہيں.
اس موقع پر البانيا كے وزير خارجہ 'دتمير بوشاتي' نے كہا ہے كہ ہم اميد كرتے ہيں كہ تيرانا اور تہران كے درميان ہمہ پہلو تعاون كے فروغ سے دونوں ملكوں كے روابط ميں ايك نئي تاريخ رقم ہو گي.
انہوں نے باہمي تعاون اور تجربات كے تبادلے پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ہم نے ايران كے ساتھ مختلف شعبوں ميں تعاون بڑھانے كے لئے ايك روڈمپ تيار كيا ہے جس سے اميد ہے دونوں ملكوں كے درميان سياسي ، اقتصادي ، تجارتي ، ثقافتي، توانايي اور سائنسي شعبوں ميں تعاون كو مزيد فروغ ملے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲