اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائز ہے، گالیاں دینا ہمارا شعار ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد کی ضرورت، موجودہ نظام فاسد ہے، جس میں تحریک جعفریہ کی بحالی میں مجھے انصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قائل ہیں، کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کریں گے، عزاداری میں وہ شریک ہو جو بم دھماکے برداشت کرنے کی جرات رکھتا ہو، ہمیں کنٹینروں کے حصار، خاردار تاروں کے جھنڈ اور سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں، عزاداری کیخلاف درج ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تحریک کے سینیر نائب صدر مرحوم وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ کے قصر زینب میں منعقدہ چہلم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم سے علامہ عارف واحدی، صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ مظہر عباس علوی، وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، مجمع اہلبیت پاکستان کے سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی، وفاق علما شیعہ پاکستان علامہ رضی جعفر نقوی، محمد شفیع پتافی، سکندر رضا نقوی، مرکزی صدر جے ایس او حسن عباس اور دیگر نے خطاب میں مرحوم وزارت نقوی کی سیاسی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خرا ج عقیدت پیش کیا۔
مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ایشیا میں کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی، قیام پاکستان اور ایران میں انقلاب اسلامی عوامی جدوجہد سے آئے، میں ملک کا طاقتور حصہ ہوں، ہمیں عسکری ونگ کی ضرورت ہے نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں، میں عوامی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، مسلح جدوجہد کا محتاج نہیں، پاکستان میں کوئی گروہ یافرد ایسا نہیں جس کیخلاف ملت جعفریہ کو مسلح جدوجہد کی ضرورت ہو، ایک دہشتگرد گروہ کے آرمی چیف کے نام کھلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ گالیاں دینا مرد کا کام نہیں، دہشتگرد گروہ سپہ سالار سے التجائیں کر رہا ہے کہ انہیں ہمارے ساتھ بٹھائیں، میری کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی میں نے کسی سے مذاکرات کی التجا کی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے بانی ہیں، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق کی عراق کی مرجعیت اور ولی امرالمسلمین نے مہر تصدیق ثبت کی ہے، خاندانی نسب اور دولت نہیں، انسان کا حوالہ وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتا ہے، وزارت نقوی کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک جعفریہ کو کسی مسلح جدوجہد کی ضرورت نہیں۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا ملکی حالات پر اثر نہیں ہونا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے مطابق فرقہ واریت، انتہا پسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے، ہم نے 14 سال صبر و تحمل سے کام لیا، تحریک جعفریہ پر پابندی میرٹ پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور پاکستان میں اتحاد امت کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر تنظیمی شکل دی، جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تشیع کو دباو اور خوف میں رکھنا ممکن نہیں۔ مرکزی جنرل سیکرٹری اسلامی تحریک علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ اداروں میں دہشتگردی اور تکفیریت کیخلاف کارروائی کا احساس پیدا ہوا ہے، قومی قیادت کی پالیسی سے دہشتگرد گروہ تنہائی کا شکار اور اتحاد امت کی فضا قائم ہوئی، وزات حسین نقوی پر تینوں قائدین نے اعتماد کیا اور انہوں نے اپنی زندگی قومیات میں صرف کر دی۔ اسلامی تحریک پنجاب کے صدر علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ مکتب اہل بیت کی کوئی مسجد، مدرسہ یا امام بارگاہ پر دہشتگردی کا الزام نہیں، ہمارا کوئی خود کش حملہ آور یا تکفیری کارکن نہیں ملے گا، جنازے اٹھائے مگر کسی کیخلاف کوئی اقدام تجویز نہیں کیا۔
وفا ق المدارس الشیعہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدر ی کا کہنا تھاکہ وزارت نقوی نے قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ ساجد علی نقوی تک تمام قائدین کا ساتھ دیا اور ملکی استحکام کیلئے کام کیا۔ وفاق علما شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ رضی جعفر نقوی نے کہا کہ قائد اعظم کی بصیرت نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد اور وزارت نقوی کی سیاسی بصیرت نے مکتب تشیع کو بیدار کیا۔ مجمع اہلبیت پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ نظام ولایت فقیہہ کے باعث اسلام کی عظمت بلند ہوئی، تکفیری سوچ ناکام ہو رہی ہے، مرحوم وزارت نقوی کے فرزند سکندر رضا نقوی کا کہنا تھا کہ وہ علامہ ساجد علی نقوی کی جدوجہد میں ان کے کارکن کے طور پر شامل رہیں گے، وہ پاراچنار، گلگت، کراچی یا ملک کے کسی بھی حصے میں طلب کریں بھکر کے عوام لبیک کہیں گے۔
.......
/169