اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت مولانا سیدکلب جواد نقوی نے کویت میں اہل سنت و الجماعت کی جانب سے منعقد ہونے والے پروگرام ’’لبیک یا حسینؑ‘‘ میں بصیرت افروز تقریر کر کے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
کویت سے ابنا کو موصولہ رپورٹ کے مطابق، نقیب وحدت فخر قوم وملت حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید کلب جواد نقوی جوکہ 12 تا 17 ربیع الاول ھفتہ وحدت اسلامی کی تقریبات کے سلسلے مجلس وحدت مسلمین کویت کی دعوت پر کویت کے دورے پر تھے انہوں نے لبیک یا حسین(ع) نامی مشاعرے سے صدارتی خطاب کیا۔ مشاعرے میں پاک وہند سے تعلق رکھنے والے’’شعرائے کرام سید وفادار حسین حسنین معروفی نیرعباس رضوی حیدرعمران فیاض وردگ صداقت ترمذی کاشف کمال‘‘ اور دیگر شعرا نے امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں اپنا کلام پیش کیا۔
مشاعرے کے اختتام پر ’’مہمان خصوصی منہاج القرآن انٹرنیشنل فرانس کے امیر جناب حسن میرقادری‘‘ صاحب نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا کے دین کی خاطر ایسی لازوال قربانی دی کہ آپ کا سر تو کٹ گیا مگر دین نبی (ص) بچ گیا یہی وجہ ہےکہ آج آپکی محبت میں سر کٹانا ہی آج عشق نبی کرنے والوں کیلئے فخرکی علامت ہے۔ انہوں نے کہا ایسے گلے ایسے زندگی اور ایسی زندگی کا کیا فائدہ جو نام حسین کی پرقرنان ہونے میں رکاوٹ ہو۔
اختتامی صدراتی خطبہ جناب علامہ کلب جواد نقوی امام جمعہ شاہی آصفی مسجد لکھنئو نے دیا انہوں نے کہا: آج چونکہ بسلسلہ میلاد النبی (ص) امام حسین علیہ السلام کی شان اقدس میں مشاعرہ رکھا گیا اور اس میں جناب غلام سرور نقشبندی نے نعت پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا ہے تو میں آپ کو ہہ بتا دینا چاھتا ہوں کہ کرہ ارض پر پہلے نعتیہ اشعار جناب ابوطالب علیہ السلام نے پڑھے جنہوں نے خشک سالی میں جناب رسول خدا کو کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر اشعار کی شکل میں رسول پاک (ص) کی مدحت وثنا کی اور اس نعت کا واسطہ دے کر کعبہ کے سامنے دعا مانگی اور بارش برسنا شروع ہوگئی ۔
آپ نے مزید کہا کہ سیرت سید الشھدا علیہ السلام عالمی امن کی ضمانت ہے؛ اگر دنیا کے حکمران امام حسین علیہ السلام کی سیرت کو نمونہ عمل بنائیں تو دنیا گہوارہ امن بن سکتی ہے۔
کلب جواد صٓحب نے کہا: کربلا میں بہتر انصارحسینی دراصل بہتر افراد نہیں بلکہ بہتر اکائیاں تھیں۔کربلا کا ہر شہید صاحب مکتب حسینی تھا۔ انہوں نے سجادہ نشین حضرت نظام الدین اولیاء کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ہم اپنے آپ کوسنی اور شیعہ میں تقسیم کریں تو ھماری قوت تقسیم ہوجاتی ہے مگر جونہی میں یہ کہوں کہ آپ میں سے کون کون حسینی ہے تومجھے یقین ہے کہ آپ سب ہاتھ بلند کرکے کہیں گے کہ ہم سب حسینی ہیں۔ جس پر پورا ہال لبیک یاحسین کی صدائوں سے گونج اٹھا۔
تقریب کے اختتام پر سید شہباز شیرازی نے کویت کیلئے مجلس وحدت مسلمین کی 21 رکنی وحدت کونسل کا بھی اعلان کیا اور سیکرٹری مجلس وحدت مسلمین کویت سید عرفان کاظمی نے تمام مہمانان گرامی علامہ کلب جواد نقوی جناب حسن میر قادری شعرائے کرام ؛ تمام حاضرین بالخصوص پیلزپارٹی ملسم لیگ ق ؛ منہاج القرآن پاکستان عوامی تحریک ؛ تحریک انصاف ؛ شیعہ علما کونسل مرکزی تنظیم اہلسنت مسلم لیگ ن لیبرونگ اور پیغام حق واتباع سنت اور میڈیا کے تمام نمائندوں کا شکریہ اداکیا۔
بعد از آں ۱۷ ربیع الا ول کو جسن ولادت پیغمبر اسلام حضرت رسول خدا(ص) و امام جعفر صادق(ع) میں بھی خطاب کیا ۔
مولانا موصوف نے کہاکہ اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جانا چاہیے۔ اسکے علاوہ مولانا نے کویت میں دیگر مذہبی و ثقافتی پروگراموں میں بھی حصہ لیا ۔











۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲