اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ حضور سرور کائنات اور حضرت امام صادقؑ کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ہفتہ وحدت کی اختتامی تقریب مرکزی امام باڑہ بڈگام میں منعقد ہوئی۔ حسب عمل قدیم حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام سے تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں عظیم الشان جلوس میلاد برآمد ہوا جو حسب روایت مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میلاد میں تنظیم کے زیر اہتمام وادی کے اطراف و اکناف میں مصروف خدمت سینکڑوں دینی مدارس میں زیر تعلیم ہزار وںطلباءو طالبات، معلمین و معلمات اور تنظیم کی دیہہ ، زون اور ضلع کمیٹیوں کے ذمہ داروں کے علاوہ فرزندان توحید کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میلاد کے اختتام پر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں ایک پُروقار جشن میلاد کا انعقاد کیا گیا ۔ جشن میلاد سے متعدد علمائے دین نے خطاب کیا اور سیرت نبی کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت ختمی مرتبت کے اسوہ ¿ حسنہ اور حضرت امام صادقؑ کے سیرت و کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آغا صاحب نے کہا کہ پیغمبر اکرم نے اعلان بعثت سے پہلے ہی آپسی جنگ و جدل میں مبتلا مختلف عرب قبائل کو شیر و شکر کرنے میں ایک مدبرانہ کردار ادا کرکے اخوت انسانی کی علمبرداری کا ثبوت پیش کیا۔ آپ کی راست گوئی ، امانت داری، اخلاق حسنہ، انسانی ہمدردی ، انسانی اخوت اور جذبہ خدمت خلق نے ہی دنیا کی بدترین جاہل قوم مشرکین عرب آپ کے دعوت توحید پر لبیک کہنے کے لئے آمادہ ہوئے۔ اگر موجودہ دور میں بھی مسلمین عالم اپنے نبی کی سیرت طیبہ کے ان ہی پہلوو ¿ں کی اتباہ کریں گے تو نہ صرف امت مسلمہ کی شان رفتہ بحال ہوگی بلکہ غیر مسلم اقوام کو اسلام کی حقانیت اور اعتباریت کے اعتراف کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوگی۔ امام جعفر صادقؑ کے سیرت و کردار اور شریعت مصطفوی کی تشہیر و ترویج اور تحفظ کیلئے امام عالیمقام کی گرانقدر علمی اور فکری خدمات کو تاریخ اسلام کا درخشان باب قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ امام صادقؑ کا حوزہ علمیہ تاریخ اسلام کا پہلا حوزہ علمیہ ہے جس کو مسلکی اتحاد کے اولین مرکز ہونے کی حیثیت حاصل ہے ۔ کئی ائمہ مسالک بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر امام صادقؑ کے ہی شرف تلمذ سے سرفراز ہوئے ہیں۔ ہم عصر ہونے کے باوجود ائمہ مسالک نے باہمی اتحاد کی ایک مثال قائم کی۔ امت مسلمہ کو یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ مسلک کے نام پر تفرقہ بازی کرکے استکباری قوتوں کے عزائم کو تقویت پہنچائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲