اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے اپنا کیس پیش کردیا ہے اور اس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا ہے، عدالت اس حوالے سے کیس کا جو بھی فیصلہ دے گی ہمیں قبول ہوگا، پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنا تو اس کا بائیکاٹ کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطبق، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نہیں چاہتے کہ جس کے خلاف فیصلہ آئے وہ کہے کہ ہمیں نہیں سنا گیا۔ اگر فیصلہ دیا کہ دستاویزات درست ہیں تو دوسرا فریق کہے گا صفائی کا موقع نہیں ملا، کمیشن کا مقصد یہ ہے کہ بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ کیس ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ریٹائر ہورہا ہوں، فل کورٹ ریفرنس کے بعد کسی بینچ میں نہیں بیٹھوں گا، پاناما کیس کی سماعت ازسرنو ہوگی۔
واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام سے متعلق ٹی او آر پر حکومت اوراپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا جس کے بعد عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲