اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد( )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کی بندش اور طلبا کے خلاف ناروا اقدامات وزیراعلی کے متعصبانہ رویہ پر دلالت کرتے ہیں۔ نااہل وزیر اعلی نان ایشو کو ایشو بنا کر حساسیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہماری اعلی سیاسی شخصیات دیوالی ،کرسمس اور دیگر غیر اسلامی رسوم میں شرکت کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ پاکستان مذہبی آزادی پر یقین رکھتا ہے جبکہ دوسری طرف نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کا یوم ولادت منانا کو قابل تعزیر ٹہرایا جا رہاہے۔گلگت بلتستان کی حکومت اپنے نظریات پوری قوم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی دنوں سے دھرنے اور احتجاج جاری ہیں لیکن وہاں کی حکومت مسلسل عدم توجہی کا مظاہرہ کر کے بے حسی کا ثبوت دے رہی ہے۔جی بی کے وزیر اعلی کا یہ طرز عمل اس کے اقتدار کی بقا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔گلگت بلتستان میں کسی بھی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلی پر ہو گی۔کراچی کے حوالے سے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹارگنگ کلنگز کے واقعات پر قابو پانے میں انتظامیہ ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے بلند و بانگ دعووں کے کچھ ہی دیر بعدکوئی نیا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو بے یقینی اورعدم تحفظ کی فضا کو تقویت دے رہا ہے۔بزرگ عالم دین مرزا یوسف حسین کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر کا اندراج انتقامی کاروائی ہے۔ایک پُرامن اجتماع میں ان کی محض شرکت کو تقریر کا نام دے کر بے بنیاد مقدمے کا اندراج کیا گیا ہے جو قابل مذمت اورافسوسناک ہے ۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ایف آئی آر واپس لینے کے احکامات صادر کریں اوراختیارات سے تجاوز کرنے والے انتظامیہ کے افسران کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے دہشت گردوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہے اور نیشنل ایکشن پلان کا رُخ محب وطن علما اور باکردار شخصیات کی طرف موڑ رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کالعدم جماعتوں کو اجتماع کی اجازت دیا جانا حیران کن ہے جس میں شرکا فرقہ وارانہ تقریروں اور تکفیری نعروں سے نیشنل ایکشن پلان کی افادیت و اہمیت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے تھے۔ایک طرف ان شر پسند مذہبی رہنماؤں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جو خود کو سرعام طالبان کا باپ کہتے ہیں اور ان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف علامہ امین شہیدی اورعلامہ شیخ محسن نجفی جیسی قابل قدر اور بزرگ شخصیات کو شیڈول فور میں ڈال دیا گیا ہے جن کی بے انتہا علمی کاوشیں ہیں۔عدل و انصاف کا یہ معیار کسی باشعور کے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کی بڑھتی ہو جارحیت و بربریت پر اقوام عالم کی خاموشی حیران کن ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔موجودہ حکومت کو کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہو گا۔ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قوت اقتدار بچانے کی بچائے ملک بچانے پر صرف کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲