اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق دینی اورثقافتی امور کےماہرحجةالاسلام قاسم متقی نیا نے خرم آباد میں خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ قرآن کریم والدین کے لیےایک خاص مقام کا قائل ہے۔
انہوں نےاس مطلب کہ قرآن کریم میں والدین کی زحمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اللہ تعالیٰ جب والدین کی زحمتوں کو بیان کرنا چاہتا ہےتو فقط والدہ کی زحمتوں کو بیان کرتا ہے۔
حجة الاسلام متقی نیا نےمزید کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےکہ اے فرزند یہ ماں ہے کہ جو تمہارے لیے زحمت برداشت کرتی ہے اورتجھے نو مہینے تک اپنے پیٹ میں رکھتی ہے۔ ہم نے انسان کو اپنے والدین کےساتھ نیکی کرنےکی نصیحت کی ہے۔" وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ".
انہوں نےمزید کہا ہے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ ماں کی زحمتوں کو بیان کرتا ہےاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی زحمتیں بہت زیادہ گرانقدرہیں لہذا اس کا زیادہ سے زیادہ احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نےکہا ہے کہ شیخ صدوق کی کتاب خصال کے مطابق امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: "و لم یشکر والدی لم یشکر الله"؛ جو شخص اپنے والدین کا شکریہ ادا نہیں کرتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا نہیں کیا ہے۔
حجة الاسلام متقی نیا نےمزید کہا ہےکہ اللہ تعالیٰ کے بعد والدین کےمقام کو بیان کیا گیا ہے لہذا دونوں کا احترام کرنا چاہیے البتہ ماں کی زحمتوں پرزیادہ توجہ دینی چاہیے۔ جو شخص اپنے والدین کو راضی نہیں رکھتا ہے وہ اللہ کا شکرگزاربندہ شمارنہیں ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169