اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/علاقہ شالیمار سرینگر میں سخت ترین کرفیو اور شدید ناکہ بندیوں کے باوجود جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے سید ساجدین امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت کے موقعہ پر حسب عمل قدیم آرہ بل شالیمار سرینگر میں عظیم الشان جلوس ذوالجناح تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد کیا گیا۔
آغا صاحب مسلسل خانہ نظر بندی کے باعث جلوس میں شرکت نہ کر سکے موصوف کی غیر موجودگی میں ان کے فرزند آغا سید منتظر مہدی کی نظارت میں جلوس عزا حاجی علی محمد خان کے دولت سے برآمد ہو کر حسب روایت امام باڑہ گلشن علی شالیمار میں اختتام پذیر ہوا۔
عزاداروں کی ایک خاصی تعداد غیر معروف گلی کوچوں ، کھیت کھلیانوں اور گزرگاہوں کو عبور کرتے ہوئے پولیس ناکوں کو توڑ کر جلوس گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اور آہستہ آہستہ عزاداروں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔
انجمن شرعی شیعیان کے خانہ نظربند سربراہ آغا سید حسن الموسوی نے جلوس پر حکومتی قدغن اور علاقہ میں اعلانیہ کرفیو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سالہا سال سر شالیمار سرینگر میں 25 محرم الحرام کو مذکورہ جلوس عزا علاقے کے عوام کی بھر پور تائید و حمایت سے پُرامن طور پر برآمد ہورہا ہے ۔ جلوس میں عوام کی بے پناہ شرکت کی وجہ سے یہ جلوس ایک تاریخی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ۔
آغا صاحب نے اس جلوس کو بند کروانے کی کوششوں میں سالہاسال سے مصروف چند شرپسند عناصر اور اُن کے سرپرستوں سے ریاستی انتظامیہ کے سازباز کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ سرکاری منصب کا ناجائز فائدہ اُٹھاکر جس ٹولے نے شالیمار میں جلوس عزا کو منسوخ کروانے کی جی توڑ کوشش کی انہیںاپنے آپ اور اپنے آباو اجداد کو عزاداری کے محافظ کہتے ہوئے شرم آنی چاہے۔
تحریک عاشورا کے پیغام اور فکروعمل کو قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھنے کی خاطر سید الساجدین حضرت امام زین العابدین ؑ کے کرداروعمل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اس ذات قدسیہ کے یوم شہادت کی مناسبت سے جلوس عزا کو بند کرانے کی مذموم کوششوں میں مصروف عناصر کبھی بھی اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونگے۔آج جو کچھ انہوں نے شالیمار سرینگر میں جلوس کو ثبوتاژ کرنے کیلئے کیا وہ بذات خود یذیدیت کی حمایت کے مترادف ہے۔
کرفیو اور سرکاری قدغن کو نظر انداز کرتے ہوئے جن ہزاروں عقیدت مندوں نے جلوس عزا برآمد کرکے شرپسندوں اور اُن کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا اُن عزاداروں کے جذبہ حسینتؑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ حکومتی کاروائی محض اپنے ایک عہدہ دار کے معتصبانہ جذبات کی تشفی تھی۔ امن قانون کی صورت حال سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲