16 اکتوبر 2016 - 15:47
سلامتی کونسل سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہٹانے کا مطالبہ

ایسوشیٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ "بٹ سلم"اجرایی گروپ کے مدیر نے جمعہ کو "اسرائيل کی غیر قانونی شہرک سازی کو دو حکومتوں کے درمیان صلح کی راہ میں رکاٹ " قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کی غیر رسمی نشست میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسوشیٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ "بٹ سلم"اجرایی گروپ کے مدیر نے جمعہ کو "اسرائيل کی غیر قانونی شہرک سازی  کو دو حکومتوں کے درمیان صلح کی راہ میں رکاٹ " قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کی غیر رسمی نشست میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔

حجای العاد نےگذشتہ 49 سالوں سے غزہ پٹی ،مغربی پٹی اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں پر اسرائیلی کنٹرول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:ایسا نہیں کہ اسرائيل ایک دن اچانک بیدار ہوکے اپنی زیادتیوں کی طرف متوجہ ہو جائے اور اپنی جبروزیاتیوں سے ہاتھ کھینچ لے"۔

اگرچہ 2017  کواسرائيل ملک کی پچاسویں سالگرہ ہے ،لیکن جناب حجای العاد نے سلامتی کونسل کے ارکان سے مخاطب ہوکر کہا:"فلسطینیوں کے حقوق کو رسمیت حاصل ہونی چاہئے؛ قبضے کا خاتمہ ہونا چاہئے؛سلامتی کونسل کو اس حوالے سے ضروری قدم اٹھانا چاہئے اور اسکے لئے وقت بھی مناسب ہے"۔

سلامتی کونسل کے غیر رسمی نشست میں اسرائیلی ہیومن رائٹس تنظیم "پیس نو"(Peace Now)  کو مدعو کیا گيا تھا،لیکن ان سے وابستہ تنظیم نے انکی نمایندگی کرتے ہوئے اس نشست میں شرکت کرکے مقبوضہ فلسطین سے قبضہ ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔

اس تنظیم کے سربراہ لارا فریڈمن نے سلامتی کونسل کے ارکان سے کہا:"قبضہ خود اسرائیل کی سلامتی اور حیات کیلئے خطرہ ہے"۔

فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور ان علاقوں میں اسرائيلی شہرک سازی کو لے کے امریکہ اور اسرائيل کے درمیان بھی اختلاف موجود ہے۔

امریکی صدرباراک اوباما نے ستمبر کو اقوام متحدہ کے عمومی اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران اس حوالے سے کہاکہ  اسرائيلیوں کو ماننا چاہئے کہ فلسطینی سرزمین پر ہمیشہ قبضہ نہیں رکھا جاسکتا اور وہاں شہرک سازی انجام نہیں  دی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲