28 ستمبر 2016 - 19:53
بھارت کے مکرو فریب سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔آغا حسن

آغا صاحب نے کہا کہ دہشت گردی کا رونا رونا اور اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے رہنا تنازعہ کشمیر کے حوالے سے مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے بھارت کا روایتی نسخہ رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھارتی وزیر خارجہ سوشما سوراج کی تقریر کو بھارت کی دیرینہ مکروفریب اور گمراہ کن پالیسی کی ایک اور کڑی قرار دیتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے خطے میں امن واستحکام کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور خطرات و خدشات کے بنیادی محرکات کے بجائے پاکستان دشمنی کو اپنی تقریر کا موضوع بناکر کشمیر میں بھارت کے خونین چہرے کو چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ آغا صاحب نے کہا کہ دہشت گردی کا رونا رونا اور اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے رہنا تنازعہ کشمیر کے حوالے سے مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے بھارت کا روایتی نسخہ رہا ہے۔ آغا صاحب نے کہا کہ اگر بھارتی وزیر خارجہ میں اخلاقی جرات اور حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت ہوتی تو وہ کشمیر کے ابترحالات بالخصوص گزشتہ اڑھائی ماہ کے دوران بھارتی فورسز کی جبروبربریت اور نہتے احتجاجیوں کے قتل عام ، فورسز کی طرف سے بستیوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے عالمی برادری کو فراہم کردہ اطلاعات اور اعداد وشمار کا جواب دینے سے نہیں کتراتی۔ آغا صاحب نے واضح کیا کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں ، شملہ سمجھوتہ اور تاشقند معاہدہ ، لاہور اعلامیہ وغیرہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے آن ریکارڈ ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مکروفریب کاری اور پاکستان کو دھونس دھمکیوں یا کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا قانونی حصہ نہیں تھا اور نہ بن سکتاہے۔آغا صاحب نے محبوس حریت قائدین اور اراکین کی جیلوں میں حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کئی قائدین کی بگڑتی صحت اور حکومت کی طرف سے انہیں علاج و معالجے کی بہتر سہولیات فراہم نہ کرنے کی شدید مذمت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

لیبلز