اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر پائے جانے والی بدامنی ، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقے میں تباہ کن جنگوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا میں جاری یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی شاید گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران بڑی طاقتو ں کی سیکورٹی اسٹریٹیجی کا نتیجہ ہے- انہوں نے کہا کہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی قیمت پر کسی ایک خاص خطے میں امن کی برقراری ممکن نہیں ہوسکتی -
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکہترویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں پندرہ سال قبل گیارہ ستمبر کو رونما ہونے والا واقعہ مشرق وسطی میں تباہ کن جنگ کا سبب بنا ہے-
انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ گیارہ ستمبر کا واقعہ خود دیگر ہولناک واقعات اور جنگ کا باعث بنے گا - صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے پوری دنیا میں دہشت گر دی کا بیج بویا ہے اور آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم کیوں اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہوئے ہیں اورکون سے اقدامات، پالیسیاں اور نظریات پوری دنیا میں بدامنی کا باعث بنے ہیں ؟
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پوری دنیا میں جاری بدامنی ، دہشت گردی اور انتہا پسندی شاید گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران بڑی طاقتوں کی سیکورٹی اسٹریٹیجی کا نتیجہ ہے-
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے جو سبق ملتاہے وہ یہ ہے کہ باقی دنیا کو بدامنی کا شکار بناکر کسی ایک خطے میں امن کی برقراری، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں ہے بلکہ اس سے بدامنی میں اورزیادہ اصافہ ہوتاہے -
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس قسم کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دہشت گردعناصرعراق، شام اور لیبیا میں اپنی حکومت بنانے کا دعوی کرنے لگے اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان دہشت گردوں نے اپنے ناپاک عزائم کو دین کے لبادے میں پنہاں کررکھاہے اور تکفیری و انتہا پسندانہ نظریات کو ترویج دے کر دین رحمت و مہربانی کو تشدد اور وحشت کےدین میں تبدیل کر دیا ہے-
انہوں نے کہا کہ جو صدی نیویارک میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی اس کو مشرق وسطی میں مخاصمانہ رقابت اور جنگ کے شعلوں کی صورت میں جاری نہیں رہنا چـاہئے -
صدر مملکت نے کہا کہ آج مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا علاقہ انتہائی وحشیانہ اور تباہ کن پالیسیوں (اور اقدامات ) کا شکار ہوگیاہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے خون بہائے جاچکے ہیں اور دسیوں لاکھ شامی باشندے اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں، یمن کے عوام پر روزانہ مسلسل بمباری ہورہی ہے ، عراقی عوام کا ہر طبقہ اپنے ملک کی ارضی سالمیت اور ملک کے مستقبل کے سوال پر تشویش میں مبتلاہے اور افغانستان آج بھی تشدد آمیزواقعات اور دہشت گردی کا شکار ہے جبکہ مظلوم فلسطینی عوام غاصب صیہونی حکومت کے نسل پرستانہ نظام کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اگر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ یہ خطرناک صورتحال ختم ہو اور علاقے میں امن و امان برقرار ہو تو علاقے کے بعض ملکوں کو اپنے ہمسایہ ملکوں پر بمباریوں کا سلسلہ بند اور تکفیری دہشت گردوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچنا ہوگا اور اپنی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے تیار ہونا ہوگا -
انہوں نےعلاقے میں سعودی عرب کی جارحانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعود ی عرب چاہتاہے کہ وہ ترقی کرے اور علاقے میں امن قائم ہو تو اس کو تفرقہ انگیز پالیسیوں اور نفرت آمیز نظریات کو رواج دینے کے اقدامات اور ہمسایہ ملکوں کے حقوق پر حملہ کرنے سے باز رہنا ہوگا -
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا اس بات پر یقین ہے کہ علاقے کے ممالک اپنے مشترکات پر بھروسہ کرکے اپنا مشترکہ مستقبل خود سنوار سکتے ہیں -
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہرقسم کے مذہبی اختلافات کو ہوا دئے جانے کا مخالف ہے اور شیعہ اورسنی جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ پرامن زندگی گذار رہے ہیں آئندہ بھی پرامن زندگی گذاریں گے -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ علاقے کے مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ ملکوں کی ارضی سالمیت اور قوموں کے اقتداراعلی کا احترام کیا جائے اور دوسروں پر طاقت کےاستعمال کی مخالفت کی جائے-
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاہدے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مذاکرات اور اعتدال پسندی کی پالیسیوں کا ایک کامیاب نمونہ ہے جس نے ایک غیر ضروری بحران کو ختم کردیا ہے -
انہوں نے کہاکہ ایٹمی معاہدہ ایک ایٹمی معاملے کے حل سے بالاترہے اور یہ معاہدہ دنیا کے پیچیدہ ترین معاملات اور مسائل کے حل کے لئے اہم درس ہے اور اسے صرف ایک سیاسی معاہدہ نہ سمجھا جائے -
انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چـاہئے کہ دباؤ ، دھمکیاں اور غیرقانونی پابندیاں جو ایران میں یورینیم کی افزود گی کی تنصیبات کو ختم کرنےکے لئے عائد کی گئی تھیں ناکام ہوگئیں اور آج سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے نے باضابطہ طور پر ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو تسلیم کرلیا ہے -
ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں امریکا کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایک چند جانبہ معاہدہ ہے اور اگر امریکا نے اس کی خلاف ورزی کی تو یہ ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی اور عالمی برادری کو اس پر شدید احتجاج ہوگا -
انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اس لئے اس نے اس معاہدے کے تعلق سے اب تک جو بھی خلاف ورزی کی ہے اس کی وہ فوری طور پر تلافی کرے-

۔۔۔۔۔۔۔
/169